سریہ عیص
Urdu book, p. 158
By Maulana Wahiduddin Khan
دونوں کے درمیان ایک مدت کے لیے ناجنگ معاہدہ ہو جائے اور اس مدت میں ایک فریق دوسرے سے کوئی تعرض نہ کرے۔ واپس ہو کر بدیل نے قریش کو بتایا کہ محمد جنگ کے لیے نہیں آئے ہیں وہ صرف عمرہ اور صلح کرنا چاہتے ہیں۔ یہ سن کر عروہ بن مسعود نے جو اپنی قوم میں بہت ہی باعث شخص تھے، اٹھ کر کہا، لوگو، محمد نے تمہاری بھلائی کی بات کہی ہے۔ اس کو ضرور قبول کر لو اور مجھ کو اجازت دو کہ میں محمد سے گفتگو کروں۔ لوگ تیار ہو گئے۔ عروہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بات شروع کی۔ رسول اللہ نے وہی کہا جو بدیل سے کہا تھا۔ واپس جا کر عروہ نے قریش کو پوری صورت حال سے باخبر کیا۔ عروہ کی یہ گفتگو سن کر حلیس بن علقمہ کنانی نے کہا مجھے محمد کے پاس جانے کی اجازت دو۔ جب رسول اللہ نے حلیس کو دیکھا تو صحابہ سے کہا کہ قربانی کے جانوروں کو کھڑا کر دو کیوں کہ یہ شخص ایک ایسے قبیلہ سے ہے جس میں قربانی کے جانوروں کی تعظیم کی جاتی ہے۔ حلیس قربانی کے جانوروں کو دیکھ کر راستہ ہی سے واپس ہو گیا اور قریش سے کہا کہ ان لوگوں کو عمرہ کرنے دو لیکن قریش تیار نہ ہوئے۔ آخر کار قریش نے سہیل کو اپنا نمائندہ بنا کر بھیجا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سہی کو آتے دیکھا تو کہا: قد سهل لكم من امر کم۔ یعنی اب تمہارا معاملہ آسان ہو گیا۔ سہیل آپ کے پاس آیا اور دیر تک صلح اور شرائط صلح پر گفتگو ہوتی رہی۔ جب شرائط طے ہو گئیں تو رسول اللہ نے حضرت علی کو لکھنے کا حکم دیا۔ صلح کی شرطیں یہ تھیں: 1۔ دس سال تک آپس میں لڑائی موقوف رہے گی۔ 2۔ قریش کا جو شخص مسلمان ہو کر مدینہ آ جائے اس کو واپس کیا جائے گا۔ 3۔ جو مسلمان مدینہ سے مکہ آ جائے اس کو واپس نہیں کیا جائے گا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader