Urdu book · سیرتِ رسول

سریہ عیص

Urdu book, p. 159

By Maulana Wahiduddin Khan

اس درمیان کوئی ایک دوسرے پر تلوار نہ اٹھائے گا اور نہ کوئی کسی سے خیانت کرے گا۔ محمد اس سال بغیر عمرہ کیے مدینہ واپس ہوجائیں۔ وہ آئندہ سال آئیں اور صرف تین دن مکہ میں رہ کر عمرہ کرکے واپس ہوجائیں۔ قبائل کو اختیار ہے کہ وہ جس کے معاہدہ اور صلح میں شریک ہونا چاہیں شریک ہوسکتے ہیں۔ رسول اللہ نے یکطرفہ طور پر قریش کی تمام شرائط کو مان لیا۔ لیکن صحابہ پر یہ بات بہت شاق گزری۔ حضرت عمر ضبط نہ کر سکے اور رسول اللہ سے اس کا اظہار کیا۔ رسول اللہ نے انہیں سمجھایا۔ تکمیل صلح کے بعد آپ نے صحابہ کو قربانی اور سرمنڈوانے کا حکم دیا۔ تقریباً دو ہفتہ قیام کرنے کے بعد رسول اللہ حدیبیہ سے واپس ہوئے۔ ابھی راستہ ہی میں تھے کہ سورہ فتح نازل ہوئی جس میں ایک واضح فتح کی خوش خبری دی گئی تھی: اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا (48:1)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو جمع کر کے یہ آیت سنائی۔ اس آیت کو سن کر صحابہ نے تعجب سے پوچھا اے خدا کے رسول، کیا یہ فتح ہے۔ آپ نے کہا، ہاں یہ فتح ہے۔ نتیجہ کے اعتبار سے واقعی یہ ایک عظیم فتح ثابت ہوئی۔ اس سے پہلے آپس کی لڑائی کی وجہ سے مسلم اور غیر مسلم ایک دوسرے سے مل نہیں سکتے تھے۔ اب جب امن قائم ہوا، منافرت اور کشیدگی دور ہوئی تو آپس میں تبادلۂ خیال ہونے لگا۔ اس طرح لوگوں کو اسلام کو سمجھنے کا موقع ملا۔ جس کا اثر یہ ہوا کہ صلح حدیبیہ کے بعد اتنی بڑی تعداد میں لوگوں نے اسلام قبول کیا کہ بعثت سے لے کر اس وقت تک اتنے مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ دوسری طرف ایسا ہوا کہ ابو البصیر اسلام قبول کر کے مکہ سے مدینہ آئے مگر معاہدہ کے مطابق آپ نے ان کو واپس کر دیا۔ لیکن وہ مکہ جانے بجائے بھاگ کر ساحل سمندر پر پہنچ گئے اور وہاں پڑاؤ ڈال لیا۔ اسی راستہ سے قریش کا تجارتی قافلہ گزرتا تھا۔ اب جو بھی مسلمان ہوتا مدینہ جانے کے بجائے یہیں آ کر قیام کرتا۔ یہاں تک کہ ستر آدمیوں کا ایک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page