Urdu book · سیرتِ رسول

سریہ عیص

Urdu book, p. 160

By Maulana Wahiduddin Khan

گروہ بن گیا۔ یہ لوگ قریش کے قافلوں کو چھیڑتے تھے جس سے قریش بہت تنگ آگئے۔ آخر کار رسول اللہ کے پاس آدمی بھیج کر ان لوگوں نے معاہدہ کی دفعہ دو کو ختم کرا دیا۔ سرداروں کا قبولِ اسلام صلح حدیبیہ دلوں کی فاتح ثابت ہوئی۔ چنانچہ مکہ کے بڑے بڑے سردار صلح حدیبیہ کے بعد ہی اسلام میں داخل ہوئے۔ انہی میں سے خالد بن ولید، عثمان بن طلحہ اور عمرو بن العاص ہیں۔ یہ تینوں ایک ساتھ اسلام لائے۔ حضرت خالد کہتے ہیں کہ ہم تینوں ایک ساتھ مکہ سے مدینہ کے لیے روانہ ہوئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمارے آنے کی خبر پہنچی تو آپ بہت خوش ہوئے اور فرمایا کہ مکہ نے اپنے جگر گوشوں کو ہمیں دے دیا۔ یہ سب کے سب اسلام کی تاریخ کے معمار ثابت ہوئے۔ شاہانِ عالم کے نام خطوط صلح حدیبیہ کا واقعہ 6 ھ میں پیش آیا۔ اللہ نے اس صلح کو ایک کھلی فتح فَتْحًا مُّبِينًا سے تعبیر کیا۔ نیز اس کے ذریعہ ایک قریبی فتح (فَتْحًا قَرِيبًا) 48:18 کی خوش خبری بھی سنائی۔ صلح حدیبیہ ایک بہت ہی دور رس منصوبہ بندی کے نتیجہ کے طور پر ظہور میں آنے والا واقعہ تھا۔ یہ دراصل اضطراب میں اطمینان کی تلاش تھی۔ یہ ایک سکینۂ ربانی تھا جو اللہ کی طرف سے بطورِ خاص نازل کیا گیا تھا۔ اس کا مقصود یہ تھا کہ دعوتِ اسلام اور اس کی نشر واشاعت کا جو دروازہ جنگ و جہاد کی قوتوں سے نہیں کھل پارہا ہے اسے امن اور صلح کے ذریعہ کھولا جائے۔ اور جو کام اضطراب اور بے سکونی کے ماحول میں ٹھیک طرح سے انجام نہیں پارہا ہے اسے وہ پرسکون فضا میسر آجائے کہ وہ مزید نتیجہ خیز ہوسکے۔ صلح حدیبیہ اسی معنیٰ میں ایک بڑی فتح تھی کہ اس کے ذریعہ دعوتِ اسلامی بلاکسی رکاوٹ کے دور تک پھیل گئی۔ منکرین کی مخالفت اور عناد جو اس دعوت کے عام کرنے کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page