Urdu book · سیرتِ رسول

سریہ عیص

Urdu book, p. 161

By Maulana Wahiduddin Khan

راستہ کی سب سے بڑی رکاوٹ تھی، اس صلح کے ذریعہ وہ آپ ہی آپ اور اپنی مرضی سے فرد ہو گئی۔ چنانچہ رسول اللہ نے حدیبیہ سے واپس آ کر ماہ ذی الحجہ 6ھ میں بادشاہوں کے نام دعوت اسلامی کے خطوط ارسال کرنے کا ارادہ فرمایا۔ آپ نے صحابہ کو جمع کر کے خطبہ دیا: اے لوگو، میں تمام عالم کے لیے رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ تم تمام عالم کو یہ پیغام پہنچاؤ، اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے گا۔ عیسیٰؑ کے حواریوں کی طرح اختلاف نہ کرنا کہ اگر قریب بھیجنے کو کہا تو راضی ہو گئے اور اگر کہیں دور جانے کو کہا تو اپنی جگہ چپک رہے اور وہاں سے نہ ٹلے۔ صحابہ کرام نے اس پر لبیک کہا اور تعمیل حکم پر کمر بستہ ہو گئے۔ اور رسول اللہ کی جناب میں یہ مشورہ پیش کیا کہ اے اللہ کے رسول، ملوک اور سلاطین جس خط پر مہر نہ ہو اسے قابل التفات نہیں سمجھتے۔ آپ نے یہ بات پسند فرمائی اور اس کے پیش نظر ایک مہر کندہ کرائی جس کی صنعت حبشہ کی تھی۔ اس پر محمد رسول اللہ کندہ تھا۔ خط کے مضمون کے اختتام پر نام کی جگہ یہ مہر لگانے کے بعد ہی اسے مکتوب الیہ کے پاس بھیجا جاتا تھا۔ اس سے یہ بات سمجھ میں آئی کہ اگر غیر قوموں کے درمیان بھی ایسا طریقہ یا رسم پائی جائے جسے ایک اصول اور ضابطہ کی حیثیت حاصل ہو گئی ہو نیز وہ عقل و شریعت سے متصادم نہ ہو تو اس کی رعایت کرنا اور اس کا اختیار کر لینا ہی عین مطلوب فطرت ہے۔ نیز اَلْحِکْمَةُ ضَالَّةُ الْمُؤْمِنِ، حَيْثُمَا وَجَدَهَا، فَهْوَ أَحَقُّ بِهَا (سنن ابن ماجه، حدیث نمبر 4169) کا یہی تقاضا ہے۔ یعنی حکمت کی بات مومن کا گم شدہ مال ہے، وہ اس کو جہاں پائے، تو وہ اس کا زیادہ حق دار ہے۔ قیصر روم کے نام خط قیصر روم کے نام اللہ کے رسول نے جو خط ارسال کیا اس کا مضمون کچھ اس طرح تھا: ”یہ خط ہے محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول کی طرف سے ہر قل عظیم روم کی جانب۔ سلام ہو اس پر جو ہدایت کی اتباع کرے۔ اما بعد۔ میں تم کو اس کی دعوت دیتا ہوں جو اسلام کی طرف لانے والا ہے۔ اسلام قبول کرو سلامتی پاؤ گے۔ اور اللہ تعالیٰ دہرا اجر عطا فرمائے گا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page