ابتدائی حالات
Urdu book, p. 18
By Maulana Wahiduddin Khan
عہد کیا اور اس بات کا وعدہ کیا کہ مکہ میں اگر کسی شخص کے ساتھ کوئی ظلم کیا جائے گا، خواہ وہ یہاں کا باشندہ ہو یا باہر سے آیا ہو تو تمام لوگ اس کا ساتھ دیں گے اور ظالم کو مجبور کریں گے کہ وہ مظلوم کو اس کا حق ادا کرے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی بعثت سے پہلے اس معاہدہ میں شریک تھے۔ آپ نے ایک بار فرمایا کہ میں عبداللہ بن جدعان کے گھر پر معاہدہ کے وقت موجود تھا۔ میں سرخ اونٹوں کو لے کر بھی اس معاہدہ کو توڑنا پسند نہ کروں گا اور اگر زمانہ اسلام میں مجھے اس کی طرف بلایا جائے تو میں ضرور اس کو قبول کروں گا ( الطبقات الکبریٰ ، جلد 1 ، صفحہ 103 ) ۔ اس زمانہ میں عربوں کے درمیان اس قسم کے اور بھی اخلاقی اور اصلاحی معاہدے تھے۔ مثلاً بنو عبدالدار اور ان کے حامیوں نے ایک بار کعبہ کے پاس جمع ہو کر قسمیں کھائیں اور یہ عہد کیا کہ وہ ایک دوسرے کو بے امداد نہ چھوڑیں گے اور ایک کو دوسرے کے حوالے نہ کریں گے ( الطبقات الکبریٰ ، جلد 1 ، صفحہ 63 ) ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قسم کے اصلاحی معاہدوں کو ختم نہیں کیا، بلکہ ان کی توثیق فرمائی۔ آپ نے کہا کہ جاہلیت کے زمانہ میں جو بھی معاہدہ تھا، اسلام نے اس کے استحکام ہی کو مزید بڑھایا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بعثت سے پہلے تجارت کرتے تھے۔ عبداللہ بن ابی الحمراء کہتے ہیں کہ میں نے بعثت سے پہلے ایک بار آپ سے لین دین کا معاملہ کیا، میرے ذمہ کچھ دینا باقی تھا۔ میں نے کہا کہ آپ یہاں ٹھہریئے، میں ابھی رقم لے کر آتا ہوں۔ گھر آنے کے بعد اتفاق سے میں اپنا وعدہ بھول گیا۔ تین دن کے بعد مجھے وعدہ یاد آیا۔ میں فوراً روانہ ہو کر وعدہ کے مقام پر پہنچا۔ میں نے پایا کہ آپ اسی مقام پر میرا انتظار کر رہے ہیں۔ آپ نے مجھے ملامت نہیں کی۔ صرف اتنا کہا کہ تم نے مجھے زحمت دی۔ میں تین دن

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader