سریہ عیص
Urdu book, p. 162
By Maulana Wahiduddin Khan
پس اگر تو اسلام سے روگردانی کرے تو تمام رعایا کے اسلام نہ لانے کا گناہ تم پر ہوگا: يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَىٰ كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللَّهِ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ (3:64) ۔ یعنی، اہل کتاب، آؤ ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان مسلم ہے۔ وہ یہ کہ سوائے اللہ کے کسی چیز کی عبادت نہ کریں اور نہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک گردانیں۔ اور اللہ کے سوا آپس میں ایک دوسرے کو اپنا رب اور معبود نہ بنائیں۔ پس اگر وہ اسلام قبول نہ کریں تو آپ کہہ دیجئے کہ تم گواہ رہو کہ ہم مسلمان (اللہ کے حکم کے تابع) ہو چکے ہیں۔ مذکورہ بالا خط آپ نے دحیہ کلبی کے ہاتھوں ہرقل کے پاس روانہ کیا۔ قیصر نے خط پڑھ کر ابوسفیان سے جنہوں نے اس وقت تک اسلام قبول نہیں کیا تھا، آپ کے بارے میں چند سوالات کئے ۔ جس سے اس کو یقین ہو گیا کہ آپ رسول برحق ہیں۔ چنانچہ کہتے ہیں کہ اس نے ایک عظیم الشان دربار منعقد کیا اور روم کے بطریقوں اور پادریوں کو اس میں جمع کیا۔ اور ان کے سامنے اسلام کی حقانیت کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں اسلام کی دعوت دی۔ لیکن یہ سن کر وہ لوگ بھر اٹھے۔ یہ منظر دیکھ کر اس نے اپنا موقف تبدیل کر دیا اور انہیں کہا کہ میں تم لوگوں کو آزمانا چاہتا تھا۔ تمہیں اپنے دین پر ثابت قدم دیکھ کر مجھے خوشی ہو رہی ہے۔ اور یوں وہ اعتراف حق کے باوجود اس کے اظہار و قبول سے قاصر رہا۔ اس خط میں رسول اللہ نے ہرقل کو عظیم روم سے خطاب فرمایا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک غیر مسلم کا بھی اس کے شان و مرتبت کا خیال کرتے ہوئے اس مناسب تعظیم و توقیر ضروری ہے۔ اور اس سلسلے میں اس کے عقائد و مذہب سے کوئی بحث نہ ہوگی۔ خسرو پرویز کے نام خط قیصر روم کی طرح رسول اللہ نے کسریٰ شاہ فارس کے نام بھی اپنا دعوتی خط عظیم فارس،

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader