سریہ عیص
Urdu book, p. 163
By Maulana Wahiduddin Khan
کے لقب کے ساتھ روانہ فرمایا۔ اس خط کو پہنچانے والے عبد اللہ بن حذافہ سہی تھے۔ ہرقل کے برعکس خسرو پرویز نے انتہائی مخالفانہ ردعمل کا اظہار کیا۔ غصہ میں آ کر اس نے خط کو چاک کر ڈالا اور کہا کہ یہ شخص مجھ کو خط لکھتا ہے حالانکہ یہ میرا غلام ہے۔ نیز غصے سے خط کو پارہ پارہ کر ڈالا۔ چند دنوں کے بعد یہ واقعہ پیش آیا کہ خسرو کو اس کے بیٹے شیرویہ نے قتل کر ڈالا۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے درجنوں بادشاہوں اور امیروں کے نام خطوط لکھے جن میں سے بعض نے آپ کے خط کے ساتھ اچھا سلوک کیا اور بعض نے عناد کا رویہ اپنایا۔ بعضوں نے (مثلاً مقوقس) اقرار کیا کہ آپ اللہ کے پیغمبر ہیں لیکن ایمان قبول نہیں کیا۔ جب کہ بعض وہ تھے جنہوں نے آپ کے خط کو پا کر مسرت کا اظہار کیا اور ایمان یے ۔ جس کا بھی اتنا ہی حصہ ہو۔ لائے ( مثلاً نجاشی شاہ حبشہ ) ۔ ڈ پ ٹ ی و ز ی ر پ ر ح م ل ہ جن مشاہیر کے نام آپ نے خطوط روانہ فرمائے ان میں سے چند اہم نام یہ ہیں: بادشاه هرقل خسروپرویز نجاشی مقوقس منذر ابن ساوی عبد و جیفر ہوذہ بن علی حارث غسانی ملک شاہ روم شاہ فارس شاہ حبشہ شاہ مصر شاہ بحرین شاہان عمان رئیس یمامہ امیر دمشق

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader