Urdu book · سیرتِ رسول

سریہ عیص

Urdu book, p. 164

By Maulana Wahiduddin Khan

غزوہ خیبر محرم 7ھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ سے واپس ہو کر مدینہ آئے۔ اس سے پہلے مدینہ کے یہود مکہ کے قریش سے مل کر سازشیں کرتے رہتے تھے۔ مدینہ کے یہود ہی کی ترغیب پر قریش نے مدینہ کے خلاف وہ حملہ کیا تھا جس کو غزوہ احزاب کہا جاتا ہے۔ معاہدہ حدیبیہ کے بعد قریش اس کے پابند ہو گئے کہ وہ رسول اللہ کے خلاف نہ خود کوئی جنگی اقدام کریں اور نہ کسی جنگی اقدام کرنے والے کی مدد کریں۔ اس طرح معاہدہ حدیبیہ نے قریش کو یہود سے کاٹ دیا۔ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منصوبہ بنایا کہ یہود کی طاقت کو توڑ دیں تا کہ وہ مسلمانوں کے خلاف صف آرا نہ ہو سکیں اور دعوت اسلام کی راہ میں ان کی مزاحمت کا خاتمہ ہو جائے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محرم 7ھ میں خیبر کے یہود کی طرف رخ کیا۔ اس وقت آپ کے ساتھ چودہ سو پیادہ اور ایک سو سوار تھے۔ راستہ میں جب ایک بلند مقام پر پہنچے تو کچھ صحابہ نے نعرہ تکبیر بلند کیا۔ رسول اللہ نے کہا اپنے اوپر رحم کرو تم کسی بہرے اور غائب کو نہیں پکار رہے ہو۔ تم اس خدا کو پکار رہے ہو جو سننے والا اور تمہارے قریب ہے۔ آپ کو یہ معلوم ہو گیا تھا کہ غطفان نے یہود خیبر کی امداد کے لیے لشکر جمع کیا ہے اس لیے آپ نے مدینہ سے متصل رجیع میں پڑاؤ کیا جو خیبر اور غطفان کے درمیان ہے تا کہ یہود غطفان مرعوب ہو جائیں اور یہود خیبر کی مدد کو نہ پہنچیں۔ چنانچہ غطفان کے یہود کو جب یہ معلوم ہوا تو وہ واپس ہو گئے۔ خیبر کے قریب پہنچ کر آپ نے ایک لمبی دعا فرمائی۔ اس کا آخری جزء یہ تھا: فَإِنَّا نَسْأَلُكَ خَيْرَ هَذِهِ الْقَرْيَةِ وَخَيْرَ أَهْلِهَا وَخَيْرَ مَا فِيهَا، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ أَهْلِهَا وَشَرِّ مَا فِيهَا (سیرۃ ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 329)۔ یعنی، اے اللہ ہم اس بستی، اس کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page