Urdu book · سیرتِ رسول

سریہ عیص

Urdu book, p. 165

By Maulana Wahiduddin Khan

باشندے، اور اس میں موجود تمام چیزوں کی خیر و بھلائی کے طلب گار ہیں اور ان تمام چیزوں کے شر سے پناہ چاہتے ہیں۔ خیبر میں یہود کے متعدد قلعے تھے۔ آپ کو دیکھ کر یہود قلعہ بند ہوگئے۔ آپ نے ان کے قلعوں پر حملہ شروع کیا اور ایک کے بعد ایک ان قلعوں کو فتح کرلیا۔ قلعہ قموص پر چڑھائی کے لیے آپ نے حضرت علی کو جھنڈا دے کر روانہ کیا۔ آپ نے ان کو یہ نصیحت کی کہ جنگ سے پہلے یہود کو اسلام کی دعوت دینا۔ خدا کی قسم اگر ایک شخص کو اللہ تمہارے ذریعہ ہدایت دے دے تو وہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے کہیں بہتر ہے۔ جب تمام قلعے فتح ہوگئے تو آخر میں مسلمانوں نے وتیح اور سلام کا محاصرہ کیا۔ چودہ دن کے محاصرہ کے بعد ان لوگوں نے آپ سے درخواست کی کہ ہم کو امان دے دی جائے۔ ہم خیبر کو چھوڑ کر نکل جائیں گے آپ نے اس کو منظور فرمایا۔ غزوہ موتہ جمادی الاولیٰ 8ھ موتہ ایک مقام کا نام ہے جو شام کی سرحد پر واقع تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سلاطین اور امراء کے نام دعوتِ اسلام کے خطوط روانہ فرمائے تو شرحبیل بن عمر غسانی کے نام بھی ایک خط روانہ کیا۔ شرحبیل قیصر کی طرف سے شام کا امیر تھا۔ حارث بن عمیر جب آپ کا خط لے کر مقام موتہ پہنچے تو شرحبیل نے ان کو قتل کرا دیا۔ اس کے بعد آپ نے تین ہزار کا لشکر جمادی الاولیٰ میں موتہ کی طرف روانہ کیا۔ زید بن حارثہ کو امیر لشکر مقرر کیا اور یہ کہا کہ اگر زید قتل ہو جائیں تو جعفر بن ابی طالب امیر لشکر ہوں اور اگر جعفر بھی قتل ہو جائیں تو عبداللہ بن ابی رواحہ امیر لشکر ہوں اور اگر عبداللہ بھی قتل ہو جائیں تو مسلمان جس کو چاہیں اپنا امیر بنالیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page