Urdu book · سیرتِ رسول

سریہ عیص

Urdu book, p. 166

By Maulana Wahiduddin Khan

اور ایک سفید جھنڈا زید بن حارثہ کو دیا اور کہا کہ وہاں پہنچنے کے بعد ان لوگوں کو اسلام کی دعوت دینا جب دعوت قبول نہ کریں تب ان سے قتال کرنا۔ اور وصیت کی کہ ہر حال میں تقویٰ اور پرہیزگاری کو ملحوظ رکھنا، اپنے ساتھیوں کی خیر خواہی کرنا۔ جب شرحبیل کو اس لشکر کی روانگی کا علم ہوا تو ایک لاکھ کا لشکر مسلمانوں کے مقابلہ کے لیے جمع کیا۔ اسی کے ساتھ ہر قل بھی مزید ایک لاکھ کی فوج لے کر شرحبیل کی مدد کے لیے پہنچا۔ جب مسلمانوں کو اس کا علم ہوا تو انہوں نے آپس میں مشورہ کیا۔ آخر میں یہ طے ہوا کہ مقابلہ کیا جائے اور موتہ کی طرف روانہ ہوئے۔ جنگ شروع ہوئی اور یکے بعد دیگرے زید بن حارثہ، جعفر بن ابی طالب اور عبداللہ بن رواحہ شہید ہوگئے۔ آخر میں اتفاق رائے سے خالد بن ولید کو امیر لشکر بنایا گیا۔ حضرت خالد نے محسوس کیا کہ یہ مقابلہ بالکل غیر متناسب ہے کیونکہ مسلمانوں کی تعداد صرف تین ہزار ہے اور دشمنوں کی تعداد ایک لاکھ سے بھی زیادہ ہے اس لیے وہ خاص تدبیر کر کے مدینہ واپس آگئے۔ بعد کو اسامہ بن زید کی سرداری میں مسلمانوں نے پیش قدمی کی اور ان کے اوپر فتح حاصل کی۔ سر یہ عمرو بن العاص جمادی الثانی 8ھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ملی کہ قبیلہ بنی قضاعہ کی ایک جماعت مدینہ پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس لیے آپ نے ان کے خلاف عمرو بن العاص کو ذات السلاسل کی طرف روانہ کیا۔ ان کے ساتھ تین سو آدمی تھے جن میں تیس سوار تھے۔ جب قریب پہنچے تو معلوم ہوا کہ دشمنوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ اس نے رافع بن مکیث کو مدینہ روانہ کیا تا کہ آپ مدد کے لیے کچھ اور آدمی بھیجیں۔ آپ نے ابو عبیدہ بن الجراح کو دوسو آدمیوں کے ساتھ روانہ کیا جس میں ابو بکر و عمر بھی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page