سریہ عیص
Urdu book, p. 167
By Maulana Wahiduddin Khan
تھے ۔ اور یہ ہدایت کی کہ جب تم اپنے ساتھی کے پاس پہنچو تم دونوں مل کر کام کرنا، اختلاف نہ کرنا۔ ابو عبیدہ جب وہاں پہنچے اور نماز کا وقت آیا تو امامت میں اختلاف ہوا۔ عمرو بن العاص نے کہا کہ امیر لشکر میں ہوں تم میری مدد کے لیے بھیجے گئے ہو اس لیے امامت میرا حق ہے۔ اختلاف سے بچنے کے لیے حضرت ابو عبیدہ نے ان کی امامت کو تسلیم کر لیا۔ اس کے بعد سب مل کر قبیلہ بنو قضاعہ پہنچے اور حملہ کیا۔ قبیلہ کے لوگ مرعوب ہو گئے اور اپنا مخالفانہ ارادہ ترک کر دیا۔ فتح مکہ 8 رمضان ھ معاہدہ حدیبیہ کے مطابق قریش اس کے پابند تھے کہ وہ نہ مسلمانوں پر حملہ کریں گے اور نہ مسلمانوں کے حلیف پر۔ اس وقت بنوبکر قریش کے حلیف تھے اور بنو خزاعہ رسول اللہ کے۔ دونوں قبیلوں میں زمانہ جاہلیت سے دشمنی تھی۔ ایک موقع پر بنو بکر نے بنو خزاعہ پر شب خون مارا۔ یہ لوگ پانی کے ایک چشمہ پر سورہے تھے۔ اس کارروائی میں قریش نے اپنے حلیف بنوبکر کی مدد کی ۔ انہوں نے ان کو ہتھیار بھی دیے اور لڑنے کے لیے آدمی بھی۔ ان لوگوں نے بنو خزاعہ کو مارا اور ان کے اموال کو لوٹا ۔ اس کے بعد عمرو بن سالم خزاعی چالیس آدمیوں کے ساتھ مدینہ آیا ۔ آپ کو پوری صورت حال سے باخبر کیا۔ جب آپ کو معلوم ہوا تو آپ نے ایک قاصد مکہ کے لیے روانہ کیا اور کہا کہ وہ تین باتوں میں ایک کو اختیار کریں۔ 1۔ مقتولین خزاعہ کی دیت دے دی جائے ۔ 2۔ یا وہ بنو نفاشہ کے عہد سے علیحدہ ہو جائیں۔ 3۔ یا معاہدہ حدیبیہ کے نسخ کا اعلان کر دیں ۔ جب قاصدان کے پاس پہنچا تو ان لوگوں نے کہا ہم معاہدہ حدیبیہ کے نسخ پر راضی ہیں (مغازى الواقدی، جلد 2 ، صفحہ 87-786)۔ لیکن بعد میں ندامت ہوئی اور فوراً ابو سفیان کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader