سریہ عیص
Urdu book, p. 168
By Maulana Wahiduddin Khan
تجدید معاہدہ اور مدت صلح کو بڑھانے کے لیے مدینہ بھیجا۔ لیکن اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر راضی نہیں ہوئے اور ابو سفیان کو ناکام واپس ہونا پڑا۔ ابوسفیان کی واپسی کے بعد رسول اللہ نے صحابہ کو پوشیدہ طور پر مکہ کی تیاری اور سامان سفر اور آلات جنگ درست کرنے کا حکم دیا۔ اور تاکید کی کہ اس کو مکمل طور پر پوشیدہ رکھا جائے۔ اور آس پاس کے حلیف قبائل کو بھی کہلا بھیجا کہ وہ بھی تیار ہو جائیں۔ چنانچہ آپ دس رمضان کو تقریباً دس ہزار لشکر کے ساتھ مدینہ سے مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔ جب آپ مقام جحفہ میں پہنچے تو حضرت عباس مع اہل وعیال مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ کو جاتے ہوئے ملے۔ انہوں نے آپ کے حکم کے مطابق سامان تو مدینہ بھیج دیا اور خود لشکر میں شریک ہوگئے۔ فتح مکہ کے سفر کے دوران بہت سے لوگوں نے آپ سے مل کر اسلام قبول کر لیا۔ مثلاً ابوسفیان بن حارث بن عبد المطلب جو آپ کے چچازاد بھی تھے اور رضاعی بھائی بھی۔ وہ نبوت سے پہلے آپ کے قریبی دوست تھے۔ نبوت کے بعد وہ آپ کے مخالف بن گئے یہاں تک کہ آپ کی ہجو میں اشعار کہنے لگے۔ مگر بعد کو انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا اور وہ اور ان کے ایک ساتھی فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور حضرت یوسف کے بھائی کی زبان میں کہا کہ: تَا للہِ لَقَدْ آثركَ اللهُ عَلَيْنَا وَإِن كُنَّا لَخَاطِئِينَ (12:91)۔ یعنی، خدا کی قسم، اللہ نے تم کو ہمارے اوپر فضیلت دی، اور بیشک ہم غلطی پر تھے۔ اس کے جواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی حضرت یوسف کی زبان میں ارشاد فرمایا: لا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ (12:92)۔ یعنی، آج تم پر کوئی الزام نہیں۔ اس کے بعد وہ لوگ کلمہ شہادت ادا کر کے اسلام میں داخل ہوگئے۔ چلتے ہوئے عشاء کے وقت آپ مکہ کے قریب مر الظهران میں پہنچے اور وہاں پہنچ کر پڑاؤ ڈالا اور لشکر کو حکم دیا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader