Urdu book · سیرتِ رسول

سریہ عیص

Urdu book, p. 169

By Maulana Wahiduddin Khan

کہ ہر شخص اپنے خیمہ کے سامنے آگ جلائے۔ قریش کو اپنی بدعہدی کی وجہ سے شبہ تھا کہ معلوم نہیں رسول اللہ کس وقت ہم پر چڑھائی کر دیں۔ چنانچہ آگ دیکھ کر ابو سفیان بن حرب اور بدیل بن ورقاء اور حکم خبر لینے کی غرض سے مکہ سے نکلے۔ جب مرا الظہران کے قریب پہنچے تو لشکر نظر آیا۔ یہ لوگ گھبرا گئے ۔ ابو سفیان نے کہا کہ یہ آگ کیسی ہے، بدیل نے کہا یہ آگ قبیلہ خزاعہ کی ہے۔ ابو سفیان نے کہا کہ خزاعہ کے پاس اتنا لشکر کہاں سے آیا وہ تو بہت قلیل ہیں۔ رسول اللہ کے چوکیداروں نے دیکھتے ہی ان لوگوں کو گرفتار کر لیا۔ ان لوگوں نے چوکیداروں سے دریافت کیا تم میں یہ کون ہے۔ انہوں نے جواب دیا کہ یہ رسول اللہ علیہ وسلم ہیں اور ہم ان کے اصحاب ہیں۔ گفتگو ہو رہی تھی کہ حضرت عباس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خچر پر گشت لگاتے ہوئے ادھر آگئے اور ابو سفیان کی آواز کو پہچان کر کہا: افسوس اے ابو سفیان، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لشکر ہے۔ خدا کی قسم، اگر رسول اللہ تجھ پر فتحیاب ہو گئے تو تیری خیر نہیں۔ قریش کی اسی میں بہتری ہے کہ وہ امن کے طالب ہوں اور اطاعت قبول کر لیں ۔ ابو سفیان کہتے ہیں کہ میں آواز سن کر اسی سمت میں چلتا ہوا عباس تک پہنچا اور کہا کہ اے ابو الفضل، رہائی کی کیا صورت ہے۔ حضرت عباس نے کہا کہ میرے پیچھے اس خچر پر سوار ہو جاؤ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے کر تجھ کو حاضر ہوتا ہوں تا کہ تیرے لیے امن حاصل کروں۔ حضرت عباس ان کو اپنے ہمراہ لے کر لشکر کو دکھلاتے ہوئے روانہ ہوئے ۔ جب حضرت عمر کی طرف سے گزرنے لگے تو حضرت عمر دیکھتے ہی جھپٹے اور کہا کہ یہ ابو سفیان اللہ اور اس کے رسول کا دشمن ہے۔ بغیر کسی عہد و اقرار کے ہاتھ آ گیا ہے۔ حضرت عمر پیادہ اور حضرت عباس ابو سفیان کو اپنے ساتھ خچر پر سوار کیے ہوئے نہایت تیزی کے ساتھ آپ کی خدمت میں پہنچ گئے۔ اور حضرت عمر پیچھے پیچھے تلوار لیے ہوئے وہاں پہنچے اور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page