سریہ عیص
Urdu book, p. 170
By Maulana Wahiduddin Khan
عرض کیا یا رسول اللہ، یہ ابوسفیان ہے اور رسول کا یہ دشمن بغیر کسی عہد و پیمان کے آج ہاتھ آگیا ہے۔ مجھ کو اجازت دیجئے کہ میں اس کی گردن مار دوں۔ حضرت عباس نے کہا کہ یا رسول اللہ، میں نے اس کو اپنی پناہ میں لیا ہے۔ حضرت عمر تلوار لیے کھڑے تھے اور بار بار یہی کہہ رہے تھے کہ ابوسفیان کے قتل کے لیے اجازت دیجئے۔ حضرت عباس غصہ ہو گئے اور کہا کہ اے عمر، ٹھہرو، اگر یہ بنوعدی سے ہوتا تو تم اس کے قتل پر اس طرح اصرار کرتے۔ چونکہ یہ عبد مناف سے ہے اس لیے تم اس کے قتل پر اصرار کر رہے ہو۔ حضرت عمر نے کہا اے عباس، خدا کی قسم، تمہارا اسلام میرے لیے اپنے باپ خطاب کے اسلام سے زیادہ محبوب تھا اور میرا باپ اگر اسلام لاتا تو مجھ کو اتنی مسرت نہ ہوتی جتنی کہ تمہارے اسلام سے ہوئی۔ اس لیے کہ میں خوب جانتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمہارا اسلام خطاب کے اسلام سے زیادہ محبوب تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عباس کو حکم دیا کہ ابوسفیان کو اپنے خیمہ میں لے جائیں۔ صبح کو میرے پاس لائیں۔ ابوسفیان رات بھر حضرت عباس کے خیمہ میں رہے اور حکیم بن حزام اور بدیل بن ورقا نے اسی وقت رسول اللہ کے پاس آ کر اسلام قبول کر لیا۔ کچھ دیر تک رسول اللہ ان سے مکہ کے حالات دریافت کرتے رہے۔ اسلام لانے کے بعد یہ دونوں مکہ واپس ہو گئے تا کہ اہل مکہ کو آپ کی آمد سے مطلع کریں۔ ابوسفیان بن حرب اگلی صبح کو دوبارہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ ان کے ساتھ عباس بن عبد المطلب بھی تھے۔ اس وقت رسول اللہ اور ابوسفیان کے درمیان ایک مکالمہ ہوا جو سیرت کی کتابوں میں درج ہے۔ آخر کار ابوسفیان نے اسلام قبول کر لیا۔ یہ واقعہ مکہ کی سرحد پر پیش آیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوسفیان کی عزت کے لیے اعلان فرمایا کہ جو شخص ابوسفیان کے گھر میں داخل ہو وہ مامون ہے۔ ابوسفیان نے کہا کہ یا رسول اللہ میرے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader