Urdu book · سیرتِ رسول

سریہ عیص

Urdu book, p. 171

By Maulana Wahiduddin Khan

گھر میں سب آدمی کہاں سما سکتے ہیں۔ آپ نے فرمایا اور جو شخص مسجد حرام میں داخل ہو جائے وہ بھی مامون ہے۔ ابو سفیان نے کہا کہ رسول اللہ مسجد حرام کافی نہیں ہو سکتی۔ آپ نے فرمایا جو شخص اپنا دروازہ بند کر لے وہ بھی مامون۔ ابو سفیان نے کہا ہاں اب ٹھیک ہے۔ اگلے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مر الظہران سے مکہ کے لیے روانہ ہوئے۔ آپ کے ساتھ دس ہزار صحابہ کا لشکر تھا۔ یہ تعداد غیر معمولی تھی۔ جب یہ لشکر مکہ کے قریب پہنچا تو اس کے ایک دستہ کے سردار سعد بن عبادہ انصاری نے بلند آواز سے کہا: اَلْيَوْمَ يَوْمُ الْمَلْحَمَةِ، اَلْيَوْمَ تُسْتَحَلُّ الْكَعْبَةُ (آج کا دن گھمسان کا دن ہے، آج کعبہ میں قتل و قتال حلال ہو گیا)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نعرہ کو پسند نہیں فرمایا اور کہا کہ اَلْيَوْمَ يَوْمُ الْمَرْحَمَةِ، كَذَبَ سَعْدٌ، وَلَكِنْ هَذَا يَوْمٌ يُعَظِّمُ اللَّهُ فِيهِ الْكَعْبَةَ (آج کا دن رحمت کا دن ہے، سعد نے غلط کہا) آج کے دن اللہ کعبہ کو عزت دے گا۔ سعد بن عبادہ اس وقت علم اٹھائے ہوئے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ علم ان سے لے لیا جائے اور ان کے بیٹے قیس بن سعد کو دے دیا جائے۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔ ابو سفیان اس وقت مکہ کے سردار تھے۔ رسول اللہ اور آپ کے ساتھ آنے والے عظیم لشکر کو دیکھ کر ان پر ہیبت طاری ہو گئی۔ وہ چل کر تیزی سے مکہ پہنچے اور مکہ میں لوگوں کے سامنے یہ اعلان کیا کہ محمد ایک ایسے لشکر کے ساتھ آرہے ہیں جس سے مقابلہ کی ہم میں طاقت نہیں۔ تم لوگ اسلام قبول کر لو، سلامت رہو گے۔ اور جو شخص مسجد حرام میں داخل ہو جائے اس کو امن ہے یا جو شخص میرے گھر میں داخل ہو جائے اس کو بھی امن ہے یا جو شخص اپنا دروازہ بند کر لے یا ہتھیار ڈال دے اس کو بھی امن ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب مکہ میں داخل ہو کر کعبہ کی طرف بڑھے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page