Urdu book · سیرتِ رسول

ابتدائی حالات

Urdu book, p. 19

By Maulana Wahiduddin Khan

سے اسی جگہ تمہارا انتظار کر رہا ہوں (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 4996)۔ عبداللہ بن سائب کہتے ہیں کہ میں زمانہ جاہلیت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تجارت کرتا تھا۔ بعد کو جب میں مدینہ آکر آپ سے ملا تو آپ نے فرمایا کہ مجھ کو پہچانتے ہو۔ میں نے کہا کہ کیوں نہیں۔ آپ تو میرے شریک تجارت تھے اور آپ کیسے اچھے شریک تھے۔ نہ کبھی دھوکا دیتے اور نہ کسی بات میں جھگڑتے (مسند احمد، حدیث نمبر 15500)۔ حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی نبی ایسا نہیں جس نے کبھی بکریاں نہ چرائی ہوں۔ صحابہ نے کہا کہ کیا آپ نے بھی۔ رسول اللہ نے کہا کہ ہاں، میں بھی اہل مکہ کی بکریاں چند قیراط کے معاوضہ پر چرایا کرتا تھا۔ جابر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ مقام ظہران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ وہاں ہم لوگ پیلو کے پھل چنے لگے۔ آپ نے فرمایا کہ سیاہ پھل دیکھ کر توڑو، وہ زیادہ اچھے ہوتے ہیں۔ لوگوں نے کہا کہ کیا آپ نے بکریاں چرائی ہیں جس سے آپ کو یہ بات معلوم ہوئی۔ آپ نے فرمایا ہاں۔ کوئی ایسا نبی نہیں ہوا جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں اور میں نے بھی بکریاں چرائی ہیں (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 2149)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شام کا دوسرا سفر اس وقت کیا جب کہ آپ کی عمر تقریبا 25 سال تھی۔ اس زمانہ میں قریش کے کچھ لوگ مضاربت کے اصول پر تجارت کیا کرتے تھے۔ اس تجارتی سفر میں ایک بار ایسا ہوا کہ لین دین کے کسی معاملہ میں ایک شخص سے آپ کا اختلاف ہو گیا۔ اس نے کہا کہ لات و عزیٰ کی قسم کھاؤ تو میں مان جاؤں گا۔ آپ نے کہا کہ میں نے آج تک کبھی لات و عزیٰ کی قسم نہیں کھائی۔ اگر کبھی اتفاقالات و عزیٰ سے میرا گزر ہوتا ہے تو میں اعراض کر کے وہاں سے گزر جاتا ہوں۔ نبوت سے پہلے بھی آپ شرک اور بداخلاقی سے دور رہتے تھے۔ اس سلسلہ میں آپ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page