Urdu book · سیرتِ رسول

سریہ عیص

Urdu book, p. 172

By Maulana Wahiduddin Khan

اس وقت آپ اونٹنی پر سوار تھے۔ تواضع کے تحت آپ کی گردن اتنی زیادہ جھکی ہوئی تھی کہ آپ کی داڑھی کے بال کجاوے سے لگ رہے تھے۔ صحابہ کو آپ نے سختی کے ساتھ یہ حکم دے دیا تھا کہ تم لوگ کسی سے جنگ کی ابتدا نہ کرنا۔ جو شخص تم سے تعرض کرے صرف اس سے لڑنا۔ مکہ میں داخل ہو کر آپ خانہ کعبہ میں پہنچے۔ خانہ کعبہ کے کلید بردار عثمان بن طلحہ کو بلا کر ان سے کنجی لی اور بیت اللہ کو کھلوایا۔ کعبہ کی اندرونی دیواروں پر اس وقت تصویریں بنی ہوئی تھیں اور وہاں 360 بت رکھے ہوئے تھے۔ آپ نے تصویروں کو مٹانے کا حکم دیا اور بتوں کو کعبہ سے نکال دیا گیا۔ اس وقت مکہ کے لوگ آ کر بڑی تعداد میں کعبہ کے صحن میں جمع ہو گئے۔ لوگ منتظر تھے کہ ان لوگوں کے بارے میں کیا حکم دیا جاتا ہے جو کہ ظالم بھی تھے اور جنگی مجرم بھی۔ آپ نے باب کعبہ پر کھڑے ہو کر یہ خطبہ دیا: لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ، صَدَقَ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ (مسند احمد، حدیث نمبر 15388)۔ یعنی۔ اللہ ہی ایک معبود ہے، اس نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا۔ اور اس نے اپنے بندے کی نصرت کی، اور گروہوں کو تنہا شکست دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کے لوگوں سے کوئی انتقام نہیں لیا بلکہ ان کی عام معافی کا اعلان کر دیا۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ یہ تمام لوگ اسلام میں داخل ہو گئے۔ مکہ جو اس سے پہلے مشرکین کا شہر تھا وہ اب موحدین کا شہر بن گیا۔ خطبہ سے فارغ ہو کر آپ مسجد میں بیٹھ گئے۔ اس وقت بیت اللہ کی کنجی آپ کے ہاتھ میں تھی۔ حضرت علی نے کھڑے ہو کر کہا کہ یا رسول اللہ، یہ کنجی ہم کو دے دیجئے۔ آپ نے ان کو کوئی جواب نہیں دیا بلکہ فرمایا کہ عثمان بن طلحہ کہاں ہیں۔ وہ سامنے آئے تو آپ نے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page