Urdu book · سیرتِ رسول

سریہ عیص

Urdu book, p. 173

By Maulana Wahiduddin Khan

بیت اللہ کی کنجی انہیں دے دی اور فرمایا کہ آج وفا اور صلہ رحمی کا دن ہے۔ ظہر کی نماز کا وقت آیا تو آپ نے بلال کو حکم دیا کہ کعبہ کے اوپر چڑھ کر اذان دیں۔ حضرت بلال نے جب کعبہ پر چڑھ کر اذان دی تو قریش کو بہت ہی تعجب ہوا۔ اس لیے کہ بلال سیاہ فام حبشی تھے۔ اور کسی سیاہ فام کا کعبہ کی چھت پر چڑھنا قریش کے لیے ناقابل فہم تھا۔ اس طرح آپ نے عملی صورت میں یہ اعلان فرمایا کہ شرف اور عزت کا تعلق رنگ سے نہیں ہے بلکہ دین اور تقویٰ سے ہے۔ حضرت بلال نے جب خانہ کعبہ پر چڑھ کر اذان دی تو چند نوجوان ان کی نقل اتارنے لگے۔ انہی میں سے ابو محذورہ تھے۔ آپ نے ابو محذورہ کو بلوایا۔ ابو محذورہ خوف زدہ تھے کہ شاید گستاخی ہوگئی اور اب اس کی سزا بھگتنی پڑے گی۔ آپ نے انہیں حکم دیا کہ وہ دوبارہ اذان دیں۔ اذان سن کر آپ نے انہیں درہم کی ایک تھیلی عطا فرمائی اور سر، پیشانی اور سینے، وغیرہ پر محبت و شفقت کا ہاتھ پھیرا اور دعائیں دیں۔ ابو محذورہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد میری ساری نفرت محبت کے جذبات میں تبدیل ہوگئی۔ رسول اللہ نے انہیں مکہ کا مؤذن بنا دیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کا طواف کیا اور اس کے بعد کو وہ صفا پر تشریف لائے۔ اور بیت اللہ کی طرف رخ کر کے حمد و ثنا میں مشغول ہو گئے۔ کچھ انصار صحابہ کو گمان گزرا کہ مبادا آپ اب فتح مکہ کے بعد یہیں نہ ٹھہر جائیں۔ اس سے متعلق آپ کو اسی وقت وحی نازل ہوئی۔ آپ نے انصار کو بلا کر کہا: یہ ہرگز نہیں ہو سکتا۔ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ تمہاری زندگی میری زندگی ہے۔ اور تمہاری موت میری موت، یہ سن کر انصار آب دیدہ ہو گئے۔ اس کے بعد لوگ بیعت کے لیے جمع ہو گئے اور آپ بیعت لینے لگے۔ مردوں سے فقط

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page