سریہ عیص
Urdu book, p. 174
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلام پر اور حسب استطاعت اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت پر بیعت لیتے تھے۔ عورتوں سے ان امور پر بیعت لی جو سورۃ الممتحنہ (آیت 12) میں مذکور ہیں۔ یعنی یہ کہ وہ نہ تو شرک کریں گی، نہ چوری اور زنا کریں گی، اور نہ ہی اپنی اولاد کو قتل کریں گی، وغیرہ۔ فتح مکہ کے دوسرے دن ایک خزاعی نے ایک ہذیلی مشرک کو قتل کر ڈالا۔ آپ کو جب اس کا علم ہوا تو صحابہ کو جمع کر کے کوہ صفا پر کھڑے ہو کر خطبہ دیا: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ مَكَّةَ يَوْمَ خلق السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، فَهِيَ حَرَامٌ مِنْ حَرَامٍ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، أَنْ يَسْفِكَ فِيهَا دَمًا وَلَا يَعْضُدَ فِيهَا شَجَرًا (سیرۃ ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 415)۔ یعنی، اے لوگو! بے شک اللہ نے جس دن آسمان اور زمین کو پیدا کیا اسی دن مکہ کو محترم ٹھہرا دیا تھا۔ اس لیے وہ قیامت تک کے لیے حرام اور محترم رہے گا۔ ہر اس شخص کے لیے جو اللہ اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو۔ یہ جائز نہیں کہ وہ مکہ میں خون بہائے۔ اور نہ کسی کے لیے کسی درخت کا کاٹنا جائز ہے۔ بعدازاں آپ نے اپنے پاس سے مقتول کی دیت کے طور پر سو اونٹ عطا فرمائے۔ مشرکینِ مکہ نے مہاجرین کے مکانات و جائیداد پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس سلسلہ میں بعض مہاجرین نے اپنے حقوق کی واپسی کا مطالبہ کرنا چاہا۔ تاہم آپ نے انہیں یہ کہہ کر خاموش کر دیا کہ ”تو اگر صبر کرے تو تیرے لیے بہتر ہوگا۔ اور اس کے بدل کے طور پر تم کو جنت میں مکان ملے گا“۔ نیز آپ نے فرمایا: ”جو مال اللہ کی راہ میں جا چکا ہے میں اس کی واپسی پسند نہیں کرتا“۔ خود اپنے مکان کا آپ نے کوئی ذکر تک نہ کیا۔ فتح مکہ کے دن آپ نے عام معافی کا اعلان کرا دیا تھا۔ تاہم چند ایسے اشخاص جو کئی ایک شدید جرائم میں ماخوذ تھے ان سے متعلق قتل کا حکم صادر ہوا۔ ان کی کل تعداد (روایت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader