Urdu book · سیرتِ رسول

سریہ عیص

Urdu book, p. 175

By Maulana Wahiduddin Khan

کے اختلاف کے ساتھ ) پندرہ سولہ تھی۔ جن میں سے چند ہی قتل کیے گئے۔ باقی سبھی کو درگزر کر دیا گیا، وہ اسلام لے آئے۔ ان اسلام لانے والوں اور جان بخشی کیے جانے والوں میں سے چند نام یہ ہیں: عکرمہ بن ابو جہل، کعب بن زہیر، وحشی بن حرب ( قاتل حمزہ ) ہندہ زوجہ ابو سفیان، ہبار بن الاسود۔ وحشی بن حرب نے آپ کے چچا حضرت حمزہ کو قتل کیا تھا۔ ہندہ نے حضرت حمزہ کا جگر چبایا تھا۔ اس کے باوجود آپ نے انہیں معاف کر دیا۔ غزوہ حنین، اوطاس اور طائف یوم شنبه 6 شوال 8ھ حنین مکہ اور طائف کے درمیان ایک جگہ ہے۔ جہاں ہو ازن وثقیف آباد تھے۔ یہاں کے لوگ نہایت جنگ جو اور تیر انداز تھے۔ فتح مکہ کے بعد انہیں اپنے بارے میں خوف پیدا ہوا۔ انہوں نے آپس میں مشورہ کر کے یہ طے کیا کہ قبل اس کے کہ مسلمان ان پر حملہ کریں، ہمیں خود ان پر حملہ کر دینا چاہیے۔ چنانچہ ان کا سردار مالک بن عوف نصری بیس ہزار کا لشکر لے مسلمانوں پر حملہ کرنے کے لیے چلا۔ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس کی اطلاع پہنچی تو آپ نے تحقیق حال کے لیے عبداللہ بن ابی حدر اسلمی کو روانہ فرمایا۔ انہوں نے آپ کو ان کی جنگی تیاریوں کی اطلاع دی۔ آپ نے بھی مقابلہ کا سامان شروع کیا۔ 8 شوال 8ھ کو بارہ ہزار آدمیوں کے ساتھ مکہ سے روانہ ہوئے اور حنین کا قصد کیا۔ بارہ ہزار کا لشکر جب حنین کی طرف بڑھ رہا تھا تو کسی صحابی کی زبان سے کثرت تعداد کے پیش نظر پر فخر جملہ نکل گیا: لَنْ نُّغْلَبَ الْيَوْمَ مِنْ قِلَّةٍ ( تعداد کی قلت کی وجہ سے ہم آج ہرگز مغلوب نہ ہوں گے ) سیرة ابن ہشام ، جلد 2 ، صفحہ 444۔ اس جملہ میں فخر و ناز کا جذبہ شامل تھا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page