Urdu book · سیرتِ رسول

سریہ عیص

Urdu book, p. 176

By Maulana Wahiduddin Khan

جو اللہ کو نا پسند ہے۔ چنانچہ تیسرے دن جب لشکرِ اسلام وادی حنین میں پہنچا تو دشمنوں نے بیس ہزار تلواروں سے ایک دم حملہ کر دیا۔ جس سے مسلمانوں میں حواس باختگی اور سراسیمگی پھیل گئی۔ صرف بارہ جاں نثار آپ کے پہلو میں رہ گئے۔ جو لوگ مکہ سے آئے تھے وہ اچانک ہزیمت سے آپس میں چہ مگوئیاں کرنے لگے۔ ابوسفیان نے کہا کہ اب یہ ہزیمت دریا سے پہلے نہیں تھمتی۔ اور کلدہ بن حنبل نے خوشی سے چلا کر کہا: الا بطل السحر اليوم ( آج سحر کا خاتمہ ہوا )۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خچر پر سوار تھے اور بلند آواز سے کہہ رہے تھے: أَنَا النَّبِیُّ لَا کَذِبْ ... أَنَا ابْنُ عَبْدِ المُطَّلِبْ یعنی میں نبی ہوں اور اس میں کوئی جھوٹ نہیں۔ اور میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں۔ حضرت عباس نے آپ کے حکم سے مہاجرین وانصار کو آواز لگائی۔ يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ، يَا أَصْحَابَ السَّمُرَةِ ( الطبقات الکبریٰ، جلد 2، صفحہ 115)۔ یعنی، اے گروہ انصار!، اے کیکر کے درخت کے نیچے بیعت کرنے والو! اس آواز کو سن کر تمام لوگ پھر آپ کے گرد جمع ہو گئے۔ آپ نے دوبارہ حملہ کا حکم دیا۔ چنانچہ لشکرِ اسلام نے دوبارہ پوری ہمت وقوت کے ساتھ ان پر حملہ کر دیا۔ جس کے نتیجہ میں دشمنوں کے پاؤں اکھڑ گئے اور وہ میدان چھوڑ کر بھاگنے لگے۔ کچھ لوگوں نے بھاگ کر مقام اوطاس میں اور کچھ نے مقام نخلہ میں پناہ لی۔ اس طرح مسلمانوں کو فتح ہوئی اور وہ لوگ مغلوب ہو گئے۔ قبیلہ ہوازن کے قیدیوں کی تعداد تقریباً 6 ہزار تھی۔ رسول اللہ نے ان کو چھوڑ دیا۔ بعد کو وہ لوگ ایمان لے لائے۔ طائف کا محاصرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کے اموالِ غنیمت اور قیدیوں کے متعلق یہ حکم دیا کہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page