Urdu book · سیرتِ رسول

سریہ عیص

Urdu book, p. 177

By Maulana Wahiduddin Khan

انہیں جعرانہ میں جمع کر دیا جائے اور خود طائف کا قصد فرمایا۔ آپ کے طائف پہنچنے کے چار روز بعد طفیل بن عمرو دوسی بھی ایک دبابہ اور منجنیق لے کر پہنچ گئے۔ مالک بن عوف نصری سردار ہو ازن اپنی فوج کے ساتھ آپ کے پہنچنے سے قبل طائف کے قلعہ میں خود کو محصور کر چکا تھا۔ اس کے پاس کئی سال کا غلہ اور اشیائے خوردونوش تھیں۔ آپ نے طائف پہنچ کر ان کا محاصرہ کیا۔ منجنیق کے ذریعہ ان پر پتھر برسائے اور کئی ایک تدبیریں کیں تاہم مسلمان انہیں قلعہ سے باہر نکلنے پر مجبور نہ کر سکے۔ آپ نے ان کے باغات کے کٹوانے کا حکم دیا۔ اہل قلعہ نے اللہ اور قرابتوں کا واسطہ دیا تو آپ نے جوں کا توں چھوڑ دیا۔ اس کے بعد آپ نے دیوار قلعہ کے پاس یہ آواز لگوائی کہ جو غلام قلعہ سے اتر کر ہمارے پاس آ جائے گاوہ آزاد ہے۔ یہ سن کر بارہ تیرہ غلام اتر آئے وہ سب آزاد کر دیے گئے۔ روایت میں آتا ہے کہ حضرت عمر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ یا رسول اللہ ان لوگوں کے حق میں بددعا کیجئے۔ آپ نے جواب دیا کہ اللہ نے ہم کو اس کی اجازت نہیں دی ہے۔ آپ نے وہاں سے کوچ کا حکم دیا اور جاتے ہوئے یہ دعا کی: اللّٰهُمَّ اِهْدِ ثَقِيفًا وَأْتِ بِهِمْ (سیرة ابن هشام، جلد 2، صفحہ 448) ۔ یعنی، اے اللہ، ثقیف کو ہدایت عطا فرما اور انہیں میرے پاس پہنچادے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اور یہ قلعہ بعد کو خود بخود فتح ہوگیا۔ اور سبھی لوگ آپ کے پاس مدینہ آ کر اسلام میں داخل ہوگئے۔ طائف سے واپس ہو کر آپ پانچ ذی قعدہ کو جعرانہ پہنچے۔ جہاں مال غنیمت جمع کیا گیا تھا۔ یہاں پہنچ کر آپ نے دس دن تک ہو ازن کا انتظار کیا کہ شاید وہ اپنے اعزاء واطفال کو چھڑانے آئیں لیکن جب اس مدت میں کوئی نہیں آیا تو آپ نے مال غنیمت مجاہدین کے درمیان تقسیم کر دیا۔ تقسیم غنائم کے بعد ہو ازن کا وفد آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انہوں نے قیدیوں کی رہائی کے بارے میں آپ سے گفتگو کی۔ یہ چھ ہزار افراد تھے۔ آپ نے انہیں رہا کر دیا۔ اس کے بعد وہ لوگ اسلام میں داخل ہوگئے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page