سریہ عیص
Urdu book, p. 178
By Maulana Wahiduddin Khan
فتح مکہ کے بعد قریش کے جوسر دار اسلام میں داخل ہوئے تھے، ان کے اعتقادوایمان میں پختگی نہیں آئی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تقسیم غنائم کے وقت ان کی تالیف قلب کے لیے ان کو اموال دیے۔ انصار میں کچھ لوگوں کو یہ گراں گزرا۔ بعضوں نے زبان سے اس کا اظہار بھی کیا۔ اس پر اللہ کے رسول کھڑے ہوئے اور ایک تقریر فرمائی، جس میں دیگر باتوں کے علاوہ آپ نے انصار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ’’کیا تم اس پر راضی نہیں کہ اور لوگ تو اپنے گھر اونٹ اور بکری لے کر واپس جائیں اور تم اللہ کے رسول کو اپنے ساتھ واپس لے کر جاؤ۔‘‘ اس تقریر کو سن کر انصار رونے لگے۔ اور کہا، ہم اس تقسیم پر راضی ہیں کہ اللہ کا رسول ہمارے حصہ میں آئے۔ 18 ذی القعدہ کو رات کے وقت آپ جعرانہ سے مکہ کی طرف عمرہ کے ارادے سے روانہ ہوئے۔ وہاں پہنچ کر عتاب بن اسید کو مکہ کا والی مقرر فرمایا۔ اور معاذ بن جبل کو تعلیم دین کی غرض سے ان کے پاس چھوڑا۔ اور تقریباً ڈھائی ماہ بعد 27 ذی القعدہ کو صحابہ کے ساتھ مدینہ واپس پہنچے۔ فتح مکہ کے بعد تقریباً تمام جزیرۃ العرب اسلام کے ماتحت آگیا۔ چنانچہ آپ نے مختلف علاقوں میں والی اور حاکم مقرر فرمائے۔ چنانچہ باز ان جو کسریٰ کی طرف سے یمن کا ولی تھا، اس کو یمن کی ولایت پر قائم رکھا۔ ابو سفیان نجران کے اور عتاب بن اسید مکہ کے والی اور حضرت علی یمن کے قاضی مقرر ہوئے، وغیرہ۔ سریہ عیینہ محرم الحرام 9ھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بشر بن سفیان عدوی کو محرم 9ھ میں صدقات وصول

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader