Urdu book · سیرتِ رسول

سریہ عیص

Urdu book, p. 179

By Maulana Wahiduddin Khan

کرنے کے لیے روانہ کیا۔ اکثر لوگ اس پر راضی ہو گئے۔ لیکن بنو تمیم اس پر راضی نہ ہوئے اور لڑائی پر آمادہ ہو گئے۔ بشریہ دیکھ کر واپس آگئے اور سارا ماجرا کہہ سنایا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیینہ حصن فزاری کو بنو تمیم کی طرف روانہ کیا۔ ان کے ساتھ پچاس سوار تھے۔ وہاں پہنچ کر انہوں نے بنو تمیم پر چھاپا مارا اور کئی مرد اور عورت اور بچے گرفتار کر کے مدینہ لے آئے۔ بنو تمیم نے مجبور ہو کر دس افراد پر مشتمل ایک وفد آپ کی خدمت میں روانہ کیا۔ یہ وفد مدینہ پہنچا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مطالبہ کیا کہ ہمارے آدمیوں سے مفاہرت اور شاعری میں مقابلہ کریں۔ آپ نے فرمایا کہ نہ تو میں شاعر ہوں اور نہ ہی مجھے مفاہرت کا حکم دیا گیا ہے۔ پھر دونوں طرف سے خطبے اور شاعری میں مقابلہ ہوا۔ آخر میں اقرع بن حابس نے اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ خدا کی قسم، آپ کا خطیب ہمارے خطیب سے اور آپ کا شاعر ہمارے شاعر سے بڑھ کر ہے۔ اس کے بعد ان لوگوں نے اسلام قبول کر لیا۔ آپ نے انہیں انعامات دیے اور ان کے قیدیوں کو واپس کر دیا۔ بعث ولید بن عقبہ محرم الحرام 9ھ ولید بن عقبہ کو آپ نے صدقات وصول کرنے کے لیے بنی المصطلق کی طرف روانہ کیا۔ لیکن ولید بن عقبہ کو غلط فہمی ہو گئی کہ یہ لوگ آمادہ بغاوت ہیں۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آ کر کہا کہ وہ اس کے لیے آمادہ نہیں ہیں اور اسلام سے پھر گئے ہیں۔ اسی عرصہ میں بنی المصطلق کو حقیقت حال کی خبر ہو گئی۔ انہوں نے اپنا ایک وفد آپ کی خدمت میں ارسال کیا اور حقیقت حال سے آپ کو مطلع کیا۔ اسی سے متعلق یہ آیت نازل ہوئی: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَأٍ فَتَبَيَّنُوا ... (49:6)، یعنی، اے ایمان والو، اگر کوئی فاسق تمہارے پاس خبر لائے تو تم اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page