Urdu book · سیرتِ رسول

سریہ عیص

Urdu book, p. 180

By Maulana Wahiduddin Khan

ماہ صفر 9ھ میں عبد اللہ بن عوسجہ کو آپ نے بنی عمر بن حارثہ کی طرف اسلام کی دعوت کے لیے روانہ کیا۔ نیز صفر میں ہی قطبہ بن عامر کی قیادت میں بیس افراد کو خشعم کے مقابلہ کے لیے روانہ کیا جس میں مسلمانوں کو فتح ہوئی۔ آئندہ ماہ ربیع الاول میں سریہ ضحاک بن سفیان پیش آیا اور اس میں بھی مسلمانوں کو فتح ہوئی۔ انہی دنوں حبشیوں کی ایک جماعت جدہ آئی۔ رسول اللہ نے ان کے تعاقب کے لیے کچھ لوگوں کو بھیجا۔ یہ لوگ بھاگ گئے۔ اس موقع پر یہ واقعہ پیش آیا کہ کچھ لوگوں نے گھر کی طرف روانگی میں عجلت کی۔ حضرت علقمہ کو، جو سالار لشکر تھے، یہ بات نامناسب اور خلاف اصول معلوم ہوئی۔ چنانچہ انہوں نے ایک الاؤ جلوا یا اور متعلقہ لوگوں کو حکم دیا کہ وہ اس میں کود جائیں۔ قصورواروں میں سے بعض اس کے لیے تیار بھی ہو گئے۔ تاہم فوراً علقمہ نے انہیں یہ کہہ کر روک دیا کہ میں نے تم کو صرف آزمایا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس بابت معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا کہ جو تمہیں معصیت کا حکم دے اس کا حکم نہ مانو۔ ربیع الآخر 9ھ میں آپ نے حضرت علی کو قبیلہ طے کی طرف روانہ فرمایا۔ اس کے نتیجے میں جولوگ گرفتار ہوئے اس میں مشہور سخی حاتم طائی کی لڑکی سفانہ بھی تھی۔ اس نے اپنے باپ کی سخاو ت کے حوالے سے آپ سے احسان کی درخواست کی۔ آپ نے اسے قبول کر لیا اور اس کو سواری اور زادِ راہ اور ہدیہ دے کر رخصت کیا۔ غزوہ تبوک رجب 9ھ رجب 9ھ میں ہر قل شاہ روم کو یہ بے اصل خبر پہنچائی گئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا ہے اور لوگ بھکمری اور قحط سے دو چار ہیں۔ اس لیے عرب پر حملہ آور ہونے کا سب سے مناسب موقع یہی ہے۔ ہر قل یہ خبر پا کر فوراً آمادہ ہو گیا اور چالیس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page