سریہ عیص
Urdu book, p. 181
By Maulana Wahiduddin Khan
ہزار کا لشکر مسلمانوں پر چڑھائی کے لیے تیار کیا۔ آپ کو جب یہ خبر معلوم ہوئی کہ اس کا مقدمۃ الجیش بلقاء تک پہنچ چکا ہے اور یہ کہ ہر قل نے اپنے فوجیوں کو سال بھر کی پیشگی تنخواہیں بھی دے دی ہیں اور رومی پوری طرح آمادۂ جنگ ہیں تو آپ نے دفاع کے لیے تیاری کا حکم دیا اور لوگوں سے تعاون کی اپیل کی۔ سخت حالات کی بنا پر یہ سفر بہت صبر آزما تھا۔ منافقین نے مسلمانوں کو یہ کہہ کر ورغلانا شروع کیا کہ: لَاتَنْفِرُوا فِی الْحَرِّ (9:81) ۔ یعنی، ایسی گرمی میں جنگ کے لیے مت نکلو۔ تاہم مخلص مسلمان اس کے لیے تیار ہو گئے۔ سب سے پہلے ابو بکر صدیق نے اپنا کل اثاثہ آپ کے سامنے لا کر رکھ دیا۔ جب آپ نے پوچھا کہ اہل و عیال کے لیے کیا چھوڑا ہے، تو آپ نے جواب دیا: صرف اللہ اور اس کے رسول کو۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنا آدھا مال پیش کیا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے تین سو اونٹ مع ساز و سامان کے اور ایک ہزار دینار لا کر اس مہم کے لیے دیا۔ آپ نہایت خوش ہوئے۔ آپ نے فرمایا اس عمل صالح کے بعد عثمان کو کوئی عمل ضرر نہیں پہنچائے گا اور حضرت عثمان کے لیے دعا کی۔ صحابہ کی ایک جماعت ایسی بھی تھی جو اس سفر پر جانے کے لیے تیار تھی لیکن زاد راہ اور سواری نہ ہونے کی وجہ سے وہ لوگ اپنے آپ کو مجبور پاتے تھے۔ ان لوگوں نے رسول اللہ سے سواری طلب کی لیکن آپ نے معذرت کر دی۔ وہ لوگ روتے ہوئے واپس ہوئے۔ انہی لوگوں کے متعلق قرآن کی وہ آیت اتری جس کا ترجمہ یہ ہے: اور نہ ان لوگوں پر الزام ہے کہ جب تمہارے پاس آئے کہ تم ان کو سواری دو۔ تم نے کہا کہ میرے پاس کوئی چیز نہیں کہ تم کو اس پر سوار کر دوں تو وہ اسی حال میں واپس ہوئے کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے اس غم میں کہ انہیں کچھ میسر نہیں جو وہ خرچ کریں (9:92) جب مدینہ سے روانگی کا وقت آیا تو آپ نے محمد بن سلمہ انصاری کو مدینہ میں اپنا قائم

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader