Urdu book · سیرتِ رسول

سیرتِ رسول

Urdu book, p. 20

By Maulana Wahiduddin Khan

کے سیرت نگار ابو محمد عبد الملک بن ہشام نے ابن اسحاق کے یہ الفاظ نقل کئے ہیں: ’’پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح جوان ہوئے کہ اللہ آپ کی نگرانی اور حفاظت کر رہا تھا۔ اور جاہلیت کی گندگیوں سے آپ کو بچائے ہوئے تھا۔ کیوں کہ اللہ چاہتا تھا کہ وہ آپ کو عزت اور پیغمبری عطا فرمائے۔ یہاں تک کہ آپ اس نوبت کو پہنچ گئے کہ آپ اپنی قوم کے اندر مردانگی میں سب سے افضل اور ان میں سب سے بہتر اخلاق والے ہو گئے۔ حسب ونسب میں سب سے شریف اور ہمسایگی میں سب سے اچھے ہو گئے۔ بردباری میں سب سے اعلیٰ اور بات چیت میں سب سے زیادہ سچے ہو گئے۔ امانت داری میں سب سے اونچے ہو گئے۔ اسی طرح برے اخلاق میں آپ سب سے زیادہ دور ہو گئے۔ یہاں تک کہ مکہ میں آپ کو الامین کہا جانے لگا۔ (سیرۃ ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 197) رسول اللہ کی بعثْت جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم چالیس سال کے ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کے پاس وحی بھیجی اور آپ کو اپنا پیغمبر بنایا۔ پہلی چیز جس سے آپ کی رسالت کی ابتدا ہوئی وہ سچے خواب تھے۔ آپ نیند کی حالت میں جو خواب دیکھتے وہ دن میں بالکل صحیح ثابت ہوتے۔ اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے تنہائی کو آپ کے لیے محبوب بنا دیا۔ اس زمانہ میں کوئی چیز آپ کو تنہائی سے زیادہ پسندیدہ نہ تھی۔ مکہ سے تقریباً تین میل کے فاصلہ پر غار حرا واقع ہے۔ اکثر آپ وہاں چلے جاتے اور تنہائی میں غور وفکر اور عبادت کرتے رہتے۔ رمضان کا مہینہ تھا۔ رات کے وقت آپ حسب معمول غار حرا میں تھے کہ جبریل (فرشتہ) اللہ کی طرف سے آپ کے پاس آئے۔ اس وقت آپ غار حرا میں سوئے ہوئے تھے۔ جبریل نے آپ کو اٹھایا اور کہا کہ : اقرأ (پڑھ) آپ نے فرمایا کہ میں پڑھا ہوا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page