سریہ عیص
Urdu book, p. 182
By Maulana Wahiduddin Khan
مقام اور والی مقرر کیا اور حضرت علی کو اہل وعیال کی حفاظت ونگرانی کے لیے مدینہ میں چھوڑا۔ اس کے بعد مدینہ سے 30 ہزار فوج کے ساتھ روانہ ہوئے۔ راستہ میں وہ عبرتناک مقام بھی پڑتا تھا جہاں قوم ثمود پر اللہ کا عذاب نازل ہوا تھا۔ جب قافلے کا وہاں سے گزر ہوا تو آپ نے چہرہ پر کپڑا ڈال لیا اور ناقہ کو تیز کر دیا اور تمام لوگوں کو یہ تاکید کی کہ کوئی شخص ان مکانات میں داخل نہ ہو اور نہ ہی یہاں کا پانی وغیرہ استعمال کرے۔ ایک جگہ آپ نے پڑاؤ ڈالا تو اس دوران آپ کی اونٹنی گم ہو گئی۔ ایک منافق نے کہا کہ محمد آسمان کی خبریں تو بیان کرتے ہیں لیکن زمین پر اپنی اونٹنی کی انہیں خبر نہیں۔ آپ کو اس کی خبر ملی تو آپ نے فرمایا: خدا کی قسم مجھ کو جو کچھ بھی معلوم ہوتا ہے وہ اللہ کی وحی سے ہوتا ہے۔ اور اب الہام سے مجھے یہ معلوم ہوا ہے کہ وہ اونٹنی فلاح وادی میں ہے۔ اور اس کی مہار ایک درخت سے اٹک گئی ہے۔ چنانچہ صحابہ جا کر اس اونٹنی کو لے آئے۔ تبوک پہنچ کر آپ نے بیس روز قیام فرمایا مگر کوئی مقابلے پر نہیں آیا۔ اسی مقام سے آپ نے خالد بن ولید کی قیادت میں چار سو بیس سواروں کے ساتھ اکیدر کی طرف بھیجا جو ہر قل کی طرف سے دومۃ الجندل کا حاكم اورفرماں روا تھا۔ آپ نے روانگی کے وقت خالد بن ولید سے فرمایا کہ وہ شکار کھیلتا ہوا ملے گا تم اسے قتل مت کرنا صرف گرفتار کر کے میرے پاس لے آنا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ خالد بن ولید اسے پکڑ کر آپ کے پاس لے آئے۔ اس نے آپ سے صلح کرلی۔ بیس روز قیام کے بعد آپ تبوک سے مدینہ واپس ہوئے۔ مدینہ پہنچ کر آپ نے دو افراد کو حکم دیا کہ وہ جاکر مسجد ضرار کو ڈھا دیں۔ یہ وہ مسجد تھی جس کو منافقین نے تعمیر کیا تھا۔ تبوک کے لیے روانگی سے قبل منافقین نے آپ سے کہا تھا کہ آپ آکر یہاں ایک مرتبہ نماز پڑھا دیں تا کہ اس میں برکت ہو۔ آپ نے فرمایا تھا کہ جب میں تبوک سے واپس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader