سریہ عیص
Urdu book, p. 183
By Maulana Wahiduddin Khan
آؤں گا تب دیکھا جائے گا۔ واپس آنے کے بعد آپ نے اس کو ڈھانے کا حکم دے دیا۔ اس غزوہ میں تقریباً تمام ہی لوگ شریک ہوئے تھے بجز چند افراد کے جن میں سے کچھ کے پاس شرعی عذر تھا۔ البتہ تین ایسے تھے جنہوں نے بلا عذر اس میں شرکت نہیں کی تھی اور جنہیں قرآن میں پیچھے رہ جانے والے کہا گیا ہے۔ ان لوگوں نے رسول اللہ کے پاس آ کر اپنے قصور کا اعتراف کر لیا۔ آپ نے لوگوں کو حکم دیا کہ پچاس دن تک کوئی ان سے بات چیت نہ کرے۔ پچاس دن کے بعد وحی نازل ہوئی جس میں ان کی توبہ کی قبولیت کی بشارت تھی۔ آپ نے حضرت کعب کو، جو ان تین پیچھے رہ جانے والوں میں شامل تھے، مبارکباد دی اور کہا: "مبارک ہو تم کو یہ دن جو تمہاری زندگی کا سب سے بہتر دن ہے۔" حضرت کعب نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، اللہ نے مجھ کو محض سچ کی وجہ سے نجات دی ہے۔ اس لیے میں تو بہ کا یہ تکملہ سمجھتا ہوں کہ تادم حیات جھوٹ نہ بولوں۔ ابوبکر صدیق کی قیادت میں سفر حج ذوالقعدہ 9ھ ذی قعدہ 9ھ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو بکر صدیق کو امیر حج مقرر کر کے مکہ روانہ فرمایا۔ تین سو آدمی مدینہ سے ابو بکر صدیق کے ساتھ چلے۔ قربانی کے بیس اونٹ ان کے ساتھ تھے۔ ان کے ذمہ یہ کام تھا کہ قرآن کی چالیس آیتیں جو برات کے طور پر نازل ہوئی تھیں وہاں ان کا اعلان کر دیں۔ لیکن پھر آپ نے اپنے فیصلہ میں تبدیلی کی اور اعلان کے لیے حضرت علی کو منتخب فرمایا۔ اس سال نجاشی شاہ حبشہ کا انتقال ہوا۔ بذریعہ وحی آپ کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپ نے صحابہ کو جمع کر کے اس کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی۔ نیز اسی سال سود کی حرمت کا حکم نازل ہوا اور ایک سال بعد حجۃ الوداع کے موقع پر اس کی حرمت کا عام اعلان کیا گیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader