Urdu book · سیرتِ رسول

سریہ عیص

Urdu book, p. 184

By Maulana Wahiduddin Khan

عام الوفود 10ھ قبائل کے وفود کی آمد 8ھ میں ہی شروع ہوگئی تھی تاہم فتح مکہ کے بعد 9ھ اور 10ھ میں کثرت سے اس قسم کے وفد مدینہ آئے۔ اسی وجہ سے ان دونوں سالوں کو عام الوفود یعنی وفود کا سال کہا جاتا ہے۔ یہاں ان وفود میں سے کچھ اہم وفود کا ذکر کیا جاتا ہے۔ وفد ہوازن: فتح مکہ کے بعد یہ پہلا وفد ہے جو آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس میں کل چودہ آدمی شامل تھے جن میں آپ کے رضاعی چچا بھی شامل تھے۔ حضرت حلیمہ سعدیہ اسی قبیلہ کی تھیں۔ ان لوگوں نے اس نسبت سے کہ آپ اسی قبیلہ کے لوگوں کی گود میں پلے بڑھے ہیں آپ سے شفقت ومروت کی درخواست کی ۔ اور اس موقع پر کچھ اشعار بھی پڑھے۔ آپ نے ان کے ساتھ عزت کا معاملہ فرمایا۔ وفد ثقیف : رمضان 9ھ میں ثقیف کا ایک وفد اسلام قبول کرنے اور بیعت کرنے کے لیے مدینہ آیا۔ یہ وہی لوگ تھے جو محاصرہ طائف کے موقع پر قلعہ بند ہو گئے تھے۔ اب انہوں نے آپ کی اطاعت قبول کرلی۔ قبیلہ ثقیف کا معاملہ دوسرے قبائل سے مختلف تھا۔ جب بیعت کا وقت آیا تو انہوں نے کہا کہ وہ ایمان لائیں گے لیکن ان کے اوپر صدقہ نہیں ہوگا اور ان کے اوپر جہاد نہیں ہوگا۔ اس کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے بیعت لے لی۔ بعض صحابہ نے اس پر تعجب کا اظہار کیا تو آپ نے فرمایا: جب وہ اسلام میں داخل ہو جائیں گے تو اس کے بعد وہ صدقہ بھی دیں گے اور جہاد بھی کریں گے (سیرۃ ابن کثیر، جلد 4، صفحہ 56)۔ چنانچہ اس کے بعد ایسا ہی ہوا۔ وفد عبدالقیس: عبدالقیس ایک بہت بڑا قبیلہ تھا جو بحرین میں آباد تھا۔ اس وفد نے آپ سے درخواست کی کہ آپ اسے ایسا جامع عمل بتا دیں کہ جس سے وہ جنت کے مستحق ہو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page