سریہ عیص
Urdu book, p. 185
By Maulana Wahiduddin Khan
سکیں۔ آپ نے فرمایا: اللہ پر ایمان لاؤ، نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو اور مال غنیمت سے پانچواں حصہ اللہ کے لیے ادا کرو۔ وفد نجران: 9ھ میں نجران کے نصاریٰ کا ایک وفد آپ کی خدمت میں آیا جس میں ساٹھ آدمی تھے۔ ان میں سے چودہ آدمی ان کے اشراف اور سربرآوردہ لوگوں میں سے تھے۔ آپ نے اس وفد کو مسجد نبوی میں اتارا۔ عصر کی نماز ہو چکی تھی۔ کچھ دیر بعد جب ان کی نماز کا وقت ہوا تو ان لوگوں نے اپنی نماز پڑھنی چاہی۔ اس پر بعض صحابہ معترض ہوئے اور انہیں روکا۔ مگر آپ نے فرمایا: پڑھنے دو۔ چنانچہ انہوں نے مشرق کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی۔ ان لوگوں سے مختلف مسائل پر گفتگو ہوئی۔ جس میں خاص طور پر عیسیٰ کی الوہیت اور ابنیت خدا کا مسئلہ غالب رہا۔ ان پر حق واضح ہو گیا۔ مگر دیدہ و دانستہ اتباع حق سے انکار کیا۔ قرآن میں سورہ آل عمران کی ابتدائی آیتیں اسی موقع پر نازل ہوئیں۔ حجۃ الوداع 9ھ میں خانہ کعبہ مراسم جاہلیت سے پاک ہو چکا تھا۔ اب وقت آ گیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فریضۂ حج کو خود عملی طور پر ادا کریں تا کہ لوگ آپ کو دیکھ کر حج کے مناسک اور احکام جان لیں۔ ذی قعدہ 9ھ میں آپ نے سفر حج کا ارادہ کیا۔ اطراف واکناف میں منادی کرا دی گئی کہ رسول اللہ اس سال حج کرنے والے ہیں۔ چنانچہ 25 ذی قعدہ کو مدینہ سے روانہ ہوئے۔ آپ کے ساتھ صحابہ کی کثیر جماعت تھی جو ایک لاکھ سے زیادہ افراد پر مشتمل تھی۔ 4 ذوالحجہ کو آپ مکہ میں داخل ہوئے اور مناسکِ حج ادا فرمایا۔ بعد ازاں میدان عرفات میں ایک طویل خطبہ دیا۔ حمد و ثنا کے بعد فرمایا: اے لوگو، جو میں کہتا ہوں اس کو سنو۔ شاید اگلے سال تم سے ملنا نہ ہو۔ اے لوگو، تمہاری

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader