Urdu book · سیرتِ رسول

سریہ عیص

Urdu book, p. 186

By Maulana Wahiduddin Khan

جانیں اور آبرو اور اموال آپس میں ایک دوسرے پر حرام ہیں۔ جیسا کہ یہ دن یہ مہینہ اور یہ شہر حرام ہے۔ جاہلیت کے تمام امور میرے قدموں کے نیچے ہیں۔ اور جاہلیت کے تمام خون میں معاف کرتا ہوں ۔ سب سے پہلے ربیعہ بن حارث کا خون جو بنی ہذیل پر ہے اس کو میں معاف کرتا ہوں ۔ جاہلیت کے تمام سود ساقط ہیں۔ تمہارے لیے صرف راس المال ہے۔ سب سے پہلے اس سلسلہ میں میں عباس بن عبد المطلب کا ربا ساقط کرتا ہوں ۔ اس کے بعد آپ نے زوجین کے باہمی تعلقات اور حقوق سے متعلق ہدایات دیں۔ پھر فرمایا کہ میں تمہارے درمیان ایسی محکم چیز چھوڑے جاتا ہوں کہ اگر تم اس کو مضبوطی سے تھامے رہو گے تو کبھی گمراہ نہ ہو گے ۔ یہ اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت ہے۔“ آگے صحابہ کو مخاطب کر کے فرمایا: ’’قیامت کے دن تم سے میرے متعلق سوال ہوگا ۔ تم کیا جواب دو گے “۔ صحابہ نے جواب دیا کہ ہم گواہی دیں گے کہ آپ نے ہم تک اللہ کا پیغام پہنچادیا۔ خدا کی امانت ادا کر دی اور امت کی خیر خواہی کی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار انگشت شہادت سے آسمان کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: اَللّٰهُمَّ اَشْہُدُ (اے اللہ تو گواہ رہ) مسند احمد، حدیث نمبر 1309۔ آپ خطبہ سے فارغ ہوئے تو حضرت بلال نے ظہر کی اذان دی ۔ ظہر اور عصر دونوں نمازیں ایک ہی وقت میں ادا کی گئیں ۔ بعد ازاں آپ خدائے تعالیٰ کی حمد و ثنا اور شکر و استغفار میں مشغول ہو گئے ۔ اسی اثناء میں قرآن کی یہ آیت نازل ہوئی: الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ (3:5) یعنی، آج میں نے تمہارے لیے دین مکمل کر دیا۔ اور اپنی نعمت تم پر پوری کردی۔ اور دین اسلام کو تمہارے لیے پسند کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں بھی اسی قسم کا خطبہ دیا۔ چونکہ رسول اللہ نے اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page