سریہ عیص
Urdu book, p. 187
By Maulana Wahiduddin Khan
حج کے خطبے میں فرمایا تھا کہ شاید تم سے آئندہ ملاقات نہ ہو۔ اس لیے اس کو حجہ الوداع کہتے ہیں۔ آخر ذی الحجہ میں مدینہ کے لیے واپسی ہوئی۔ جبرئیل امین کی آمد حجۃ الوداع سے کچھ دنوں بعد جبرئیل امین آپ کے پاس آئے اور آپ کے قریب دو زانوں ہو کر بیٹھ گئے اور آپ سے ایمان و احسان اور قیامت سے متعلق کچھ سوال کیے اور آپ نے جوابات دیئے۔ جب وہ اٹھ کر چلے گئے تو آپ نے صحابہ سے مخاطب ہو کر فرمایا: تم جانتے ہو کہ یہ کون تھے ۔ پھر بتایا کہ یہ جبرئیل امین تھے جو تم کو دین کی تعلیم دینے کی غرض سے تشریف لائے تھے۔ سریہ اسامہ بن زید 26 صفر 11ھ 26 صفر 11ھ کو آپ نے رومیوں سے مقابلہ کے لیے لشکر کی تیاری کا حکم دیا۔ یہ آخری سریہ تھا۔ آپ نے اسامہ بن زید کو اس کا امیر مقرر کیا۔ اور اس لشکر میں بڑے جلیل القدر صحابہ کو شرکت کا حکم دیا۔ نیز خود اپنے ہاتھوں سے نشان بنا کر اسامہ کو دیا۔ حضرت اسامہ نے فوج کو مقام جرف میں جمع کیا۔ لیکن یہاں سے آگے روانگی سے قبل ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی۔ وفات کی خبر سن کر وہ لوگ واپس آگئے۔ حضرت ابوبکر صدیق جب خلیفہ ہوئے تو سب سے پہلے کام یہی کیا کہ باوجود مخالفت کے جیش اسلامہ کو روانہ کیا اور جرف تک خود اسے چھوڑنے گئے۔ آخری وقت حجۃ الوداع سے واپسی کے بعد سورہ نصر نازل ہوئی۔ یہ آپ کی واپسی آخرت کا اشاریہ تھا۔ آپ اس کے بعد استغفار و تسبیح میں مشغول ہو گئے۔ حجۃ الوداع کے موقع پر آیت الیوم

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader