Urdu book · سیرتِ رسول

سریہ عیص

Urdu book, p. 188

By Maulana Wahiduddin Khan

اَكۡمَلۡتُ لَکُمۡ دِیۡنَکُمۡ ( آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لیے مکمل کر دیا ) سے آپ کو اندازہ ہو چکا تھا کہ اب آپ کا وقت قریب آچکا ہے۔ غدیر خم کے موقع پر خطبہ دیتے ہوئے آپ نے ارشاد فرمایا تھا کہ مجھ کو یہ اندیشہ نہیں کہ میرے بعد تم لوگ شرک میں مبتلا ہو جاؤ گے البتہ اندیشہ ہے کہ تم دنیا کی حرص وطمع اور باہمی تنافر میں مبتلا ہو جاؤ گے۔ اور آپس میں لڑو گے اور ہلاک ہو گے ۔“ بیماری کی ابتداء صفر کے آخری عشرے میں ایک مرتبہ آپ رات کو اٹھے اور اپنے خادم کو جگایا اور کہا کہ مجھ کو یہ حکم ہوا ہے کہ اہل بقیع کے لیے استغفار کروں۔ وہاں سے واپس آنے کے بعد طبیعت ناساز ہوگئی اور سر میں درد اور بخار کی شکایت پیدا ہوگئی۔ جب مرض کی شدت اور بڑھی تو ارشاد فرمایا کہ میرے سر پر سات مشکیں پانی کی ڈالو۔ چنانچہ حسب حکم آپ کے سر پر پانی کی مشکیں ڈالی گئیں۔ اس سے جب آپ کو کچھ سکون ہوا تو آپ حضرت علی کے سہارے مسجد میں تشریف لائے اور نماز پڑھائی۔ یہ ظہر کی نماز تھی ۔ بعد ازاں آپ نے صحابہ کو خطاب کیا۔ یہ آپ کا آخری خطاب تھا۔ اس خطاب میں دیگر باتوں کے علاوہ آپ نے ارشاد فرمایا کہ لعنت ہو اللہ کی یہود اور نصاریٰ پر جنہوں نے اپنے پیغمبروں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔ اس سے مقصود اپنی امت کو تنبیہ کرنا تھا کہ وہ آپ کی قبر کو سجدہ گاہ نہ بنائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری نماز جماعت اور حضرت ابوبکر کو امامت کا حکم آپ کو جب تک طاقت رہی آپ برابر مسجد میں تشریف لائے اور نماز پڑھاتے رہے۔ سب سے آخری نماز مغرب کی نماز تھی جس کے چار روز بعد آپ کا انتقال ہوا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page