Urdu book · سیرتِ رسول

سریہ عیص

Urdu book, p. 189

By Maulana Wahiduddin Khan

عشاء کے وقت آپ نے دریافت فرمایا کہ کیا لوگ نماز پڑھ چکے ہیں۔ جواب ملا کہ وہ آپ کے منتظر ہیں۔ آپ نے متعدد مرتبہ اٹھنے کی کوشش کی لیکن شدت مرض کی وجہ سے آپ اٹھ نہیں پاتے تھے۔ آخر آپ نے فرمایا کہ ابوبکر کو میری طرف سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ چنانچہ حضرت ابوبکر نے نماز پڑھائی۔ وفات دوشنبہ 12 ربیع الاول 10ھ کو آپ کی وفات ہوئی۔ اس دن صبح کو آپ نے حجرے کا پردہ اٹھایا تو دیکھا کہ لوگ صف باندھے ہوئے صبح کی نماز میں مشغول ہیں۔ اس کو دیکھ کر آپ خوش ہو گئے ۔ اسی دن آپ پر نزع کی کیفیت شروع ہو گئی۔ آپ اپنا سر حضرت عائشہ کی گود میں رکھ کر لیٹ گئے۔ اس عالم میں مسواک کیا۔ آپ کے پاس پانی کا ایک پیالہ رکھا ہوا تھا۔ درد سے بے چین ہو کر بار بار ہاتھ اس پیالے میں ڈالتے اور چہرے پر پھیر لیتے اور یہ کہتے: اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، بے شک موت کی بڑی سختیاں ہیں (إِنَّ لِلْمَوْتِ سَكَرَاتِ) صحیح البخاری، حدیث نمبر 4184۔ پھر چھت کی طرف دیکھا اور ہاتھ اٹھا کر فرمایا: اے اللہ، رفیقِ اعلیٰ، اور اس کے بعد آپ کی روحِ عالم بالا کو پرواز کی گئی انا لله و انا اليه راجعون۔ انتقال کے وقت آپ کی عمر ترسٹھ سال تھی ۔ یہ بارہ ربیع الاول دوشنبہ کا دن تھا۔ صحابہ میں اضطراب اس خبر کو سن کر صحابہ میں اضطراب پھیل گیا۔ لوگ سناٹے میں آگئے۔ حضرت عمر نے تلوار اٹھالی اور کہا کہ جو شخص یہ کہے گا کہ آپ کا انتقال ہو چکا ہے میں اس کی گردن مار دوں گا۔ اسی عالم میں حضرت ابوبکر صدیق مسجد نبوی میں آئے اور منبر پر کھڑے ہو کر طویل خطبہ دیا جس میں آپ نے فرمایا: جو شخص محمد کی عبادت کرتا تھا تو محمد پر موت آچکی اور جو شخص اللہ کی عبادت کرتا تھا، اللہ زندہ ہے، اس پر موت آنے والی نہیں۔ پھر انہوں نے یہ آیت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page