Urdu book · سیرتِ رسول

رسول اللہ کی بعثت

Urdu book, p. 21

By Maulana Wahiduddin Khan

نہیں ہوں۔ اس کے بعد انہوں نے تین بار آپ کو اپنے سینے سے لگایا یہاں تک کہ آپ کی کیفیت بدل گئی۔ اس کے بعد حضرت جبرئیل نے آپ کو وہ سورہ پڑھائی جو موجودہ قرآن میں العلق (96) کے نام سے شامل ہے۔ آپ غار حرا سے واپس ہو کر اپنے مکان پر آئے اور اپنی اہلیہ حضرت خدیجہ سے پورا واقعہ بیان فرمایا۔ انہوں نے کہا کہ آپ کو مبارک ہو، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں خدیجہ کی جان ہے، بے شک میں اس بات کی امید رکھتی ہوں کہ آپ اس امت کے نبی ہوں گے۔ حضرت خدیجہ آپ کی سچائی اور آپ کی سنجیدگی کا اتنا زیادہ تجربہ کر چکی تھیں کہ انہیں آپ کی روایت کو ماننے میں کوئی تامل نہ ہوا۔ وہ اس کو سنتے ہی فوراً آپ کی مومن بن گئیں۔ اس کے بعد حضرت خدیجہ اٹھیں ۔ اپنے اوپر ایک چادر ڈال لی اور ورقہ بن نوفل کے پاس گئیں جو ان کے چچا زاد بھائی تھے۔ ورقہ نے مسیحی مذہب اختیار کر لیا تھا اور تورات اور انجیل پڑھتے رہتے تھے۔ حضرت خدیجہ نے جب ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غار حرا کا تجربہ بتایا تو ورقہ بن نوفل نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں ورقہ کی جان ہے، اے خدیجہ، اگر تو نے سچ کہا ہے تو ناموس اکبر جو موسیٰ کے پاس آتا تھا، وہ محمد کے پاس آ چکا تھا، اور بے شک وہ اس امت کے نبی ہیں۔ ان سے کہہ دو کہ وہ ثابت قدمی اختیار کریں۔ اس کے بعد وہ رسول اللہ سے ملے اور آپ کی زبان سے غار حرا کا تجربہ سننے کے بعد کہا کہ آپ کو جھٹلایا جائے گا، آپ کو تکلیف پہنچائی جائے گی، حتیٰ کہ آپ سے جنگ کی جائے گی۔ اگر میں اس وقت تک زندہ رہا تو میں ضرور آپ کا ساتھ دوں گا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 4953)۔ اس کے بعد آپ نے لوگوں کے سامنے اپنی پیغمبری کا اعلان کیا اور لوگوں کو اسلام کی طرف بلانے لگے۔ لوگوں نے آپ کو جھٹلایا اور آپ کا مذاق اڑانا شروع کیا۔ آپ کو لوگوں کی ناپسندیدہ باتیں سن کر سخت صدمہ ہوتا۔ آپ غمگین حالت میں اپنے گھر واپس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page