Urdu book · سیرتِ رسول

رسول اللہ کی بعثت

Urdu book, p. 22

By Maulana Wahiduddin Khan

آتے۔ اس وقت حضرت خدیجہ آپ کو تسلی دیتیں اور آپ کا بار ہلکا کرتیں۔ حضرت خدیجہ اس زمانہ میں آپ کے لیے بہترین رفیق حیات ثابت ہوئیں۔ ایک روز آپ اپنے گھر میں تھے۔ حضرت جبرئیل آئے۔ انہوں نے کہا کہ خدیجہ کو ان کے رب کا سلام پہنچا دیجئے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں خدیجہ کو ایک ایسے موتیوں کے گھر کی خوش خبری دے دوں جس میں نہ شور ہوگا اور نہ تکلیف۔ آپ کے مخالفین آپ کے گھر کے پاس آ کر شور کرتے اور آپ کے راستہ میں کانٹے ڈالتے۔ اس بنا پر اللہ تعالی نے اپنے فرشتہ کے ذریعہ حضرت خدیجہ کو مذکورہ خوش خبری بھیجی۔ نبوت کے ابتدائی زمانہ میں جو سورتیں آپ پر اتریں ان میں سے ایک سورہ الضحیٰ (93) تھی۔ اس سورہ کی آخری آیات کا ترجمہ یہ ہے: اللہ نے تم کو متلاشی پایا تو اس نے تم کو راہ دکھائی اور تم کو نادرار پایا تو تم کو غنی کر دیا۔ پس تم یتیم پر سختی نہ کرو۔ اور تم سائل کو نہ چھٹڑ کو۔ اور تم اپنے رب کی نعمت بیان کرو (11-93:7)۔ اس آیت میں رب کی نعمت بیان کرنا (تحدیث نعمت) کی تشریح ابن ہشام نے اس طرح نقل کی ہے۔ یعنی اللہ کی طرف سے نبوت کی جو نعمت اور عزت تم کو ملی ہے اس کو بیان کرو، اس کا چرچا کرو اور اس کی طرف لوگوں کو بلاؤ۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان باتوں کو بیان کرنے لگے جو اللہ نے آپ پر اور آپ کے ذریعہ سے تمام بندوں پر انعام فرمائی تھیں۔ ابتدا میں آپ تنہائی میں ان باتوں کو لوگوں سے بیان کرتے جن پر آپ کو اعتماد تھا۔ پھر دھیرے دھیرے آپ کا پیغام عام ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر شروع میں جب نماز کا حکم اترا تو ہر نماز کی 2، 2 رکعتیں فرض

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page