Urdu book · سیرتِ رسول

رسول اللہ کی بعثت

Urdu book, p. 23

By Maulana Wahiduddin Khan

ہوئیں ۔ پھر اللہ نے حضر میں انہیں پورا کر کے چار رکعت کر دیا اور سفر میں ان کی ابتدائی فرضیت یعنی 2 رکعت برقرار رکھی ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نماز فرض ہوئی تو حضرت جبریں مکہ میں آپ کے پاس آئے۔ انہوں نے آپ کے سامنے وضو کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دیکھا، پھر آپ نے بھی اسی طرح وضو کیا۔ اس کے بعد آپ نے حضرت جبریں کے ساتھ نماز ادا کی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر واپس آئے تو آپ نے حضرت خدیجہ کو وضو اور نماز کا طریقہ سکھایا جس طرح حضرت جبریں نے آپ کو سکھایا تھا۔ قریبی مردوں میں سب سے پہلے آپ پر ایمان لانے والے حضرت علی تھے۔ اس وقت ان کی عمر دس سال تھی۔ حضرت علی بن ابی طالب نے آپ کے ساتھ نماز پڑھی اور اس چیز کی تصدیق کی جو آپ کے پاس اللہ کی طرف سے آئی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی کو ان کے والد ابو طالب سے لے لیا تھا اور وہ آپ کے ساتھ رہنے لگے تھے۔ مکہ کے حالات اس وقت آپ کے لیے بہت سخت تھے۔ چنانچہ جب نماز کا وقت آٹا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کی گھاٹی کی طرف چلے جاتے۔ حضرت علی بھی آپ کے ساتھ ہو جاتے۔ وہاں دونوں چھپ کر نماز پڑھتے۔ ایک روز جب کہ دونوں اس طرح نماز پڑھ رہے تھے، ابو طالب وہاں آ گئے۔ انہوں نے آپ کو نئی بات میں مشغول دیکھ کر کہا کہ اے میرے بھتیجے، یہ کون سا دین ہے جو تم نے اختیار کیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے رسول بنائے جانے کی خبر دی اور ان سے کہا کہ آپ میری دعوت کو قبول کر لیں۔ ابو طالب نے جواب دیا: اے میرے بھتیجے، میں اپنے باپ دادا کے دین کو چھوڑ نہیں سکتا۔ مگر خدا کی قسم، میں جب تک زندہ ہوں تمہارے اوپر کوئی ایسی بات نہیں آئے گی جس کو تم نا پسند کرو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک خادم تھے، ان کا نام زید بن حارثہ تھا۔ انہیں آپ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page