Urdu book · سیرتِ رسول

رسول اللہ کی بعثت

Urdu book, p. 24

By Maulana Wahiduddin Khan

سے اتنا زیادہ تعلق ہو گیا کہ ان کے والد ایک بار آئے اور زید بن حارثہ کو اپنے ساتھ لے جانا چاہا۔ آپ نے زید سے کہا کہ تم چاہو تو میرے پاس رہو اور اگر چاہو تو اپنے باپ کے ساتھ چلے جاؤ۔ وہ رسول اللہ کے پاس ہی رہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنا پیغمبر بنایا۔ اس وقت انہوں نے آپ کی تصدیق کی اور اسلام کو اختیار کر کے آپ کے ساتھ نماز پڑھی۔ ابوبکر بن ابی قحافہ آپ کے ملنے والوں میں تھے۔ انہوں نے بھی کسی تردد کے بغیر اسلام قبول کر لیا۔ وہ اپنے نرم اخلاق کی وجہ سے لوگوں کے درمیان محبوب تھے۔ اور تجارت کی وجہ سے وسیع تعلقات رکھتے تھے۔ انہوں نے اپنے جاننے والوں میں اسلام کی تبلیغ شروع کر دی ۔ ان کے اثر سے بہت سے لوگ مسلمان ہو گئے۔ مثلاً عثمان بن عفان ، زبیر بن العوام، عبدالرحمن بن عوف ، سعد بن ابی وقاص، طلحہ بن عبید اللہ، وغیرہ۔ یہ آٹھ آدمی تھے جنہوں نے ابتدائی دور میں اسلام قبول کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر بن ابی قحافہ کی بابت فرمایا کہ میں نے جس شخص کو بھی اسلام کی دعوت دی اس نے اس کو قبول کرنے میں کچھ نہ کچھ تردد اور پس و پیش کیا، سوا ابوبکر بن ابی قحافہ کے۔ جب میں نے ان کے سامنے اسلام کا ذکر کیا تو انہوں نے کسی تاخیر اور تردد کے بغیر اس کو قبول کر لیا۔ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھی انفرادی طور پر لوگوں کو اس بات کی دعوت دینے لگے کہ وہ بت پرستی کو چھوڑ دیں اور ایک خدا کی عبادت کریں۔ ان کی کوششوں سے مسلمانوں کی تعداد میں دھیرے دھیرے اضافہ ہونا شروع ہو گیا۔ سیرت ابن ہشام میں ان اسلام قبول کرنے والوں کا ذکر نام بنام کیا گیا ہے۔ انہی میں فاطمہ بنت الخطاب تھیں جو بعد کو عمر فاروق کے اسلام لانے کا سبب بنیں۔ انہی میں صہیب رومی تھے جن کی بابت رسول اللہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page