Urdu book · سیرتِ رسول

سیرتِ رسول

Urdu book, p. 25

By Maulana Wahiduddin Khan

نے فرمایا کہ: صُهَيْبُ سَابِقُ الرُّومِ (سیرۃ ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 262)۔ یعنی، صہیب رومیوں میں سے سبقت کرنے والے ہیں۔ ابتدائی زمانہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح تبلیغ کرتے تھے، اس کا اندازہ ایک واقعہ سے ہوگا۔ عمرو بن عبسہ اونٹ پر سوار ہو کر آپ کے پاس آئے۔ انہوں نے کہا کہ اے محمد، کیا اللہ نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا ہے۔ آپ نے کہا، ہاں۔ انہوں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، مجھ کو وہ بات بتائیے جو اللہ نے آپ کو بتائی ہے۔ آپ نے جواب دیا: یہ کہ ایک اللہ کی عبادت کی جائے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا جائے اور صلہ رحمی کی جائے، خون نہ بہایا جائے، راستوں میں امن قائم کیا جائے، بتوں کو توڑ دیا جائے۔ عمرو بن عبسہ نے یہ سن کر کہا کہ کتنی اچھی بات ہے جس کو لے کر اللہ نے آپ کو بھیجا ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں آپ پر ایمان لایا اور میں آپ کی نبوت کی تصدیق کرتا ہوں۔ مکہ میں تبلیغ حج کے موسم میں ہر سال سارے عرب کے لوگ مکہ میں جمع ہوتے۔ آپ گھوم گھوم کر ان کے درمیان تبلیغ کرتے۔ اسی طرح عکاظ اور مجنہ اور ذوالجاز کے میلوں میں جا کر لوگوں تک اپنی بات پہنچاتے۔ عبداللہ بن وابصہ العبسی اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے بیان کرتے ہیں کہ حضرت محمد منیٰ میں ہم لوگوں کے خیموں پر آئے۔ ہم لوگ جمرۂ اولیٰ کے قریب خیف کے پاس ٹھہرے ہوئے تھے۔ آپ اونٹنی پر سوار تھے۔ پیچھے زید بن حارثہ کو بٹھا رکھا تھا۔ آپ نے ہمیں اسلام کی دعوت دی۔ خدا کی قسم، ہم نے آپ کو کوئی جواب نہ دیا۔ ہم نے آپ کے اور آپ کی تبلیغ کے بارے میں ہی سن رکھا تھا کہ موسم حج میں آپ گھوم گھوم کر قبائل عرب کو اسلام کی طرف بلاتے ہیں۔ آپ کھڑے ہوئے کہتے رہے اور ہم خاموش سنتے رہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page