Urdu book · سیرتِ رسول

مکہ میں تبلیغ

Urdu book, p. 26

By Maulana Wahiduddin Khan

ہمارے ساتھ میسرہ بن مسروق عبسی بھی تھے۔ انہوں نے کہا، میں تو لوگوں کو خدا کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ اگر ہم اس آدمی کی تصدیق کریں اور اس کو لے جا کر اپنے قافلہ کے وسط میں ٹھہرائیں تو بہت اچھی بات ہوگی۔ میں پھر خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اسکی بات یہاں تک غالب آ کر رہے گی کہ ہر جگہ پہنچ جائے گی۔ قوم نے جواب دیا، ان باتوں کو چھوڑو۔ ایسی بات کیوں کہتے ہو جس کو ماننے کے لیے ہم میں سے کوئی تیار نہیں۔ میسرہ نے کہا۔ اس میں شک نہیں کہ آپ کی بات بہت بھلی ہے مگر کیا کروں میرا قبیلہ میرا مخالف ہو جائے گا اور آدمی اپنے قبیلہ کے ساتھ ہی زندہ رہ سکتا ہے: وَإِنَّمَا الرَّجُلُ بِقَوْمِهِ (السيرة النبوية لابن کثیر، جلد 2، صفحہ 170)۔ حضرت محمد نے جب صفا پر کھڑے ہو کر اپنی رسالت کا اعلان کیا اور کہا کہ ایک خدا کی اطاعت کرو ورنہ تم خدا کے یہاں پکڑے جاؤ گے تو آپ کا چچا ابو لہب چلا کر بولا کیا تو نے یہی سنانے کے لیے ہم کو یہاں بلایا تھا۔ پھر حاضرین کی طرف منہ کر کے کہا تم لوگ ان باتوں کو نہ سنو، اپنے اپنے گھروں کو واپس جاؤ۔ کیوں کہ محمد کی عقل کھوئی گئی ہے‘، لوگ منتشر ہو گئے اور علی بن ابی طالب اور حضرت زید بن حارثہ کے سوا آپ کے پاس کوئی باقی نہ رہا۔ آپ کے خاندان والوں نے، جو قریش سے تھے، آپ کا مذاق اڑانا شروع کیا۔ جب انہوں نے دیکھا کہ حضرت محمد پر اُس کا کوئی اثر نہیں ہورہا ہے، تو وہ باقاعدہ تکلیفیں دینے پر اتر آئے۔ ایک روز جب کہ حضرت محمد اور حضرت خدیجہ گھر میں تھے، دیکھا کہ آپ کی دو لڑکیاں جو ابو لہب کے لڑکوں سے بیاہی تھیں، سامان لیے ہوئے چلی آ رہی ہیں۔ انہوں نے اپنے ماں باپ سے کہا کہ ہمارے شوہروں نے ہم کو طلاق دے دی ہے اور کہا ہے کہ اپنے باپ کے گھر چلی جاؤ۔ حضرت خدیجہ نے لڑکیوں سے پوچھا کہ تمہیں کیوں طلاق دی۔ لڑکیوں نے جواب دیا کہ ہمارے شوہروں نے ابو لہب اور اس کی بیوی جمیلہ کے کہنے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page