Urdu book · سیرتِ رسول

مکہ میں تبلیغ

Urdu book, p. 27

By Maulana Wahiduddin Khan

پر طلاق دی ہے۔ انہوں نے اپنے لڑکوں پر زور دیا کہ یہ مناسب نہیں کہ ابو لہب کے گھر میں محمد کی لڑکیاں ہوں۔“ ایک دن حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم قریش کے لوگوں کے پتھروں سے اس قدر زخمی ہو گئے کہ جب گھر پہنچے تو لہولہان ہو رہے تھے۔ دوسرے روز بھی آپ درد اور تکلیف کی زیادتی کے باعث اس قابل نہ ہو سکے کہ اٹھ کر خانہ کعبہ جائیں اور وہاں نماز ادا کریں۔ اس روز جو مسلمان عبادت کے لیے کعبہ میں جمع ہوئے تھے، انہوں نے آپ کے بغیر نماز پڑھی۔ یہ لوگ جب سجدے میں گئے تو قریش نے ان پر حملہ کر دیا۔ جو مسلمان زخمی ہوئے ان میں ایک حارث بھی تھے جو آپ کی زوجہ حضرت خدیجہ کے لڑکے تھے جو پچھلے شوہر سے پیدا ہوئے تھے۔ حارث پہلے شخص ہیں جو اسلام کی راہ میں شہید ہوئے۔ انہیں سجدہ کی حالت میں حرم کعبہ میں قتل کیا گیا۔ ابولہب اور اس کی بیوی نہ صرف آپ کے قریبی رشتہ دار تھے بلکہ اونچے طبقہ کے لوگ تھے۔ مگر وہ آپ کے گھر میں پتھر پھینکنے لگے، لڑکوں کو ابھارا کہ وہ آپ کے گھر میں پتھر پھینکیں اور مردہ جانوروں کی لاشیں اور دوسری آلودگیاں پیغمبر کے مکان میں ڈالیں۔ ابولہب کی بیوی جمیلہ آپ کے راستہ میں کانٹے بچھا دیتی تا کہ آپ کے پیروں میں گڑ جائیں۔ آپ گھر واپس آ کر پیروں سے کانٹے نکالتے تو ان جگہوں سے خون بہنے لگتا۔ کوئی دن ایسا نہ تھا کہ حضرت محمد کعبہ سے واپسی پر خون آلود نہ ہوئے ہوں۔ کیوں کہ قریش پوری بے رحمی کے ساتھ آپ کی طرف پتھر پھینکتے تھے۔ قریش والوں کو آپ سے ایسی دشمنی تھی کہ کعبہ کے احترام کی رعایت بھی نہ کرتے تھے۔ حضرت سعد بن ابی وقاص کہتے ہیں کہ اس زمانہ میں نہ تو کعبہ میں اجتماعی عبادت ممکن تھی اور نہ ہی کسی دوسری جگہ عبادت کے لیے جمع ہونا قریش کی مسلسل نگرانی کے باعث ممکن تھا۔ اگر کسی مسلمان کے گھر میں جمع ہوتے تو محلہ والے دیکھ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page