Urdu book · سیرتِ رسول

مکہ میں تبلیغ

Urdu book, p. 28

By Maulana Wahiduddin Khan

لیتے اور ہمارے اوپر حملہ کر دیتے ۔ اس لیے ہم نے ایسا کیا کہ ہم شہر سے نکل جاتے اور کسی دور دراز مقام پر جمع ہو کر عبادت کرتے ۔ عبادت ختم ہونے کے بعد دوسری جگہ طے کر لی جاتی تا کہ اگلے روز مسلمان وہاں جمع ہو سکیں ۔ کیوں کہ قریش کے لوگ اس طرح ہمارے پیچھے پڑے ہوئے تھے کہ اگر لگا تار دو روز بھی کسی ایک جگہ جمع ہوتے تو وہ جان لیتے تھے۔ ابوذر غفاری مکہ سے دور قبیلہ غفار کی بادیوں میں رہتے تھے۔ وہ پہلے سے حق کی تلاش میں تھے۔ عبداللہ بن عباس کہتے ہیں کہ ابوذر غفاری کو جب معلوم ہوا کہ مکہ میں ایک شخص پیدا ہوا ہے جو اپنے آپ کو پیغمبر بتاتا ہے تو انہوں نے اپنے بڑے بھائی انیس سے کہا کہ آپ مکہ جائیے اور اس شخص کی خبر لائیے جو وہاں پیدا ہوا ہے اور یہ کہتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ اور مجھ پر آسمان سے وحی آتی ہے۔ اس کا کلام سنیے اور اس کے بارے میں معلومات حاصل کیجیے۔ اس کے بعد انیس غفاری اونٹ پر سوار ہو کر مکہ آئے۔ انہوں نے رسول اللہ سے ملاقات کی اور ضروری واقفیت حاصل کر کے واپس چلے گئے۔ جب وہ اپنے بھائی کے پاس پہنچے تو انہوں نے پوچھا کہ مکہ سے کیا خبر لے آئے ۔ انیس نے بتایا کہ میں جب مکہ پہنچا تو میں نے محمد بن عبد اللہ کو اس حال میں پایا کہ وہاں کا کوئی شخص ان کو کاذب کہتا تھا اور کوئی شخص انہیں جادوگر بتاتا تھا اور کوئی شخص انہیں کاہن اور شاعر کہتا تھا۔ مگر انیس بہت سمجھ دار اور تجربہ کار آدمی تھے ۔ وہ ایک شاعر بھی تھے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے کاہنوں کا کلام سنا ہے۔ محمد کا کلام کاہنوں کی مانند نہیں ۔ ان کے کلام کو میں نے شعری اوزان پر رکھ کر دیکھا تو وہ شعر بھی نہیں تھا۔ خدا کی قسم وہ ایک سچے آدمی ہیں (وَاللَّهِ إِنَّهُ لَصَادِقٌ) انہوں نے مزید کہا : رَأَيْتُهُ يَأْمُرُ بِالْخَيْرِ وَيَنْهَى عَنِ الشَّرِّ رَأَيْتُهُ يَأْمُرُ بِمَكَارِمِ الْأَخْلَاقِ وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ كَلَامًا مَا هُوَ بِالشِّعْرِ (فتح الباری لابن حجر، جلد 7، صفحہ 174)۔ یعنی، میں نے ان

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page