Urdu book · سیرتِ رسول

مکہ میں تبلیغ

Urdu book, p. 29

By Maulana Wahiduddin Khan

کو دیکھا کہ وہ خیر کی تلقین کرتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں۔ اور میں نے دیکھا کہ وہ اچھے اخلاق کا حکم دیتے ہیں اور میں نے ان سے ایسا کلام سنا جو شعر نہیں۔ ابوذر غفاری نے یہ باتیں سنیں تو ان کے اندر شوق پیدا ہوا کہ وہ خود مکہ جائیں اور براہِ راست معاملہ کو جانیں۔ انہوں نے اپنا سواری کا اونٹ تیار کیا اور پانی کا مشکیزہ اور کچھ کھانے کا سامان لے کر مکہ کے لیے روانہ ہوگئے۔ سب سے پہلے ان کی ملاقات علی بن ابی طالب سے ہوئی۔ وہ ان کو رسول اللہ کے پاس لے گئے۔ ابوذر غفاری نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی اور آپ کا کلام سنا۔ وہ پہلے سے ہی حق کی تلاش میں تھے، پہلی ہی ملاقات میں آپ کی صداقت کو پا گئے اور کلمہ ادا کر کے اسلام قبول کر لیا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد وہ حرم میں گئے۔ وہاں انہوں نے نماز پڑھی اور اپنے اسلام کا اعلان کیا۔ یہ بات مکہ کے مشرکوں کو سخت ناگوار ہوئی۔ انہوں نے ابوذر غفاری کو مارنا شروع کیا حتی کہ وہ نڈھال ہو کر زمین پر گر پڑے۔ عبداللہ بن عباس نے آ کر انہیں بچایا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا کہ تم اپنی قوم کی طرف لوٹ جاؤ اور وہاں اپنے لوگوں کو اسلام سے آگاہ کرو۔ فی الحال تم اپنے قبیلہ میں قیام رکھو۔ جب تم سننا کہ اللہ نے مجھ کو اپنے مخالفین پر غالب کر دیا ہے۔ اس وقت دوبارہ میرے پاس آ جانا۔ ابوذر غفاری اپنے قبیلہ میں واپس چلے گئے۔ وہاں سب سے پہلے ان کے بھائی اُنیس نے اسلام قبول کیا۔ پھر دونوں بھائیوں نے اپنی ماں کو اسلام کی دعوت دی۔ ان کی سمجھ میں اسلام کی صداقت آ گئی اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔ اسی طرح وہ اپنے قبیلہ والوں کو دعوت دیتے رہے یہاں تک کہ چند سال میں قبیلہ کے تقریباً آدھے افراد دین اسلام میں داخل ہوگئے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page