Urdu book · سیرتِ رسول

مخالفانہ رد عمل

Urdu book, p. 30

By Maulana Wahiduddin Khan

مخالفانہ ردِ عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ والوں کو کھلے طور پر توحید کی طرف بلایا تو ان کو محسوس ہوا کہ آپ ان کے مشرکانہ دین کو غلط اور بے بنیاد بتا رہے ہیں۔ چنانچہ وہ لوگ آپ کے مخالف ہو گئے۔ اب آپ کے لیے مصیبتوں کا دور شروع ہو گیا۔ ایک بار حضرت ابو بکر کے کہنے پر آپ ان کے ساتھ کعبہ میں آئے۔ مسلمان کعبہ کے صحن میں اکٹھا ہوئے تو مکہ کے دوسرے لوگ بھی بڑی تعداد میں وہاں پہنچ گئے۔ اس اجتماع میں پہلے حضرت ابو بکر نے کھڑے ہو کر تقریر کی۔ قریش کے کچھ لوگ عین اجتماع کے درمیان بگڑ گئے۔ وہ آپ پر اور دوسرے مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے۔ عقبہ بن ربیعہ نے حضرت ابو بکر کو اتنا مارا کہ ان کا چہرہ لہولہان ہو گیا۔ اس دوران جب کہ لوگ چاروں طرف سے آپ کو گھیرے ہوئے تھے، ایک شخص آیا اور اس نے پوچھا کہ یہ کون ہے۔ مجمع سے ایک شخص نے جواب دیا: مجنون بن ابی قحافہ۔ کچھ دیر کے بعد حضرت ابو بکر کے خاندان والے وہاں آئے اور بڑی مشکل سے چھڑا کر انہیں گھر پہنچایا۔ دھیرے دھیرے آپ کے گرد مسلمانوں کی ایک چھوٹی سی جماعت بن گئی جس میں عورت، مرد، جوان اور بوڑھے ہر قسم کے لوگ شامل تھے۔ مگر ابھی مخالفین اسلام کا خوف غالب تھا۔ چنانچہ مسلمان مکہ سے باہر پہاڑ کی گھاٹی میں جا کر نماز پڑھا کرتے تھے۔ تین سال تک اسلام کی تبلیغ خاموشی سے انفرادی ملاقات کے ذریعہ ہوتی رہی۔ نومسلموں میں سے ایک ارقم بن ابی الارقم تھے جن کا گھر صفا پہاڑی کے اوپر بالکل الگ تھلگ تھا۔ اس ابتدائی زمانہ میں یہی گھر تبلیغ اسلام کا مرکز بن گیا، یہاں مسلمانوں کے اجتماعات ہوتے اور تبلیغ اسلام کے سلسلہ میں مشورے کیے جاتے۔ نبوت ملنے کے بعد ابتدائی تین سال تک یہی دار ارقم اسلام کا دعوتی اور تربیتی مرکز بن رہا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page