Urdu book · سیرتِ رسول

مخالفانہ رد عمل

Urdu book, p. 31

By Maulana Wahiduddin Khan

تقریبا تین سال تک تبلیغی کام انفرادی ملاقاتوں کے ذریعہ ہوتا رہا۔ اس کے بعد عمومی دعوت کا حکم ہوا۔ مگر ابتدائی مرحلہ میں اس کا دائرہ عزیزوں، رشتہ داروں تک محدود رکھا گیا: وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ (26:214)۔ یعنی، اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ۔ آپ نے ایک روز اپنے خاندان بنی ہاشم کے لوگوں کو کھانے پر بلایا۔ تقریباً چالیس آدمی جمع ہوئے۔ اس کا انتظام حضرت علی بن ابی طالب کے سپرد کیا گیا۔ جب لوگ دودھ پی کر فارغ ہوئے تو آپ نے فرمایا: دیکھو، میں تم سب کے لیے دنیا اور آخرت کی بھلائی لے کر آیا ہوں۔ اور میں نہیں جانتا کہ عرب میں کوئی بھی شخص اپنی قوم کے لیے اس سے بہتر چیز لایا ہو۔ بتاؤ تم میں سے کون میرا ساتھ دے گا۔ اسلام کی دعوت اس وقت آپ کے قریبی حلقوں میں اتنی معروف ہو چکی تھی کہ لوگوں کے لیے اس کو سمجھنا مشکل نہ تھا۔ سب لوگ سن کر چپ رہے۔ آخر ایک نوجوان حضرت علی بن ابی طالب اٹھے اور کہا: ’’اگرچہ میری آنکھیں دکھ رہی ہیں، اگرچہ میری ٹانگیں کمزور ہیں، اگرچہ میں سب سے چھوٹا ہوں، مگر اے بھائی، میں آپ کا ساتھ دوں گا۔‘‘ اس کے بعد دائرہ کو اور بڑھاتے ہوئے حکم ہوا کہ جس بات کا تم کو حکم دیا گیا ہے، اس کو کھول کر بیان کر دو: فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ ( سیرۃ ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 262 )۔ اب آپ نے عمومی دعوت کے لیے عرب کے ایک دستور کو استعمال کیا۔ ان کے یہاں پرانے زمانہ سے یہ قاعدہ چلا آ رہا تھا کہ جب کسی کو کوئی اہم بات، مثلاً دشمن کے حملہ کی خبر بتانی ہوتی تو وہ پہاڑ پر چڑھ کر آواز لگاتا۔ چنانچہ آپ ایک روز مکہ کے قریب صفا پر چڑھ گئے ۔ صفا ایک ٹیلا تھا۔ آپ نے قریش کے مختلف قبیلوں کو نام لے کر پکارا۔ جب سب لوگ جمع ہو گئے تو آپ نے پوچھا: اگر میں کہوں کہ جس پہاڑ کی چوٹی پر میں کھڑا ہوں اس کے پیچھے دشمن کا ایک لشکر جمع ہے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page