Urdu book · سیرتِ رسول

سیرتِ رسول

Urdu book, p. 32

By Maulana Wahiduddin Khan

صبح یا شام تم پر حملہ کرنے والا ہے تو کیا تم لوگ میری بات کا یقین کرو گے‘ جواب میں آواز آئی: مَا جَرَّبْنَا عَلَيْكَ إِلَّا صِدْقًا (دلائل النبوة للبيهقى، جلد 2، صفحہ 181)۔ یعنی، ہم نے تو آپ کے بارے میں صرف سچ ہی کا تجربہ کیا ہے۔ آپ نے کہا: اچھا تو سنو، تمہیں اسی طرح مرنا ہے جس طرح تم سوتے ہو اور اسی طرح پھر زندہ ہونا ہے جس طرح تم جاگتے ہو، صرف ایک خدا کی عبادت کرو، اس کی خدائی میں کسی کو شریک نہ کرو۔ اگر تم نے میری بات نہ مانی تو یاد رکھو خدا کا عذاب تم پر ٹوٹ پڑے گا‘‘۔ اس اعلان کے بعد اسلام کی دعوت سارے مکہ میں گفتگو کا موضوع بن گئی۔ ہر طرف یہ چرچا تھا کہ ـــ ’’محمد اپنے بزرگوں کے طریقے سے پھر گئے ہیں اور ملک میں فساد برپا کرنا چاہتے ہیں‘‘۔ اس وقت مکہ میں آپ کی تصویر یہ تھی کہ ـــ ایک ایسا شخص جو قومی دین کو چھوڑ کر اپنا ایک الگ دین لے کر کھڑا ہو گیا ہو۔ اُس زمانہ میں آپ کے ساتھ جو واقعات پیش آئے اُس کی ایک جھلک مندرجہ ذیل روایت میں ملتی ہے۔ ایک صحابی کہتے ہیں کہ نوجوانی کی عمر میں میں اپنے باپ کے ساتھ منی میں تھا۔ میں نے دیکھا کہ ایک جگہ لوگوں کی بھیڑ جمع ہے۔ میں نے اپنے باپ سے کہا کہ یہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک صابی (بد دین) ہے جس کے گرد لوگ اکٹھا ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے جھانک کر دیکھا تو وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ آپ لوگوں کو اللہ کی توحید کی دعوت دے رہے تھے اور لوگ آپ کا مذاق اڑا رہے تھے۔ دعوتی واقعات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتدائی تین سال تک خاموش انداز میں اسلام کی طرف دعوت دی۔ آپ اپنے جاننے والے افراد سے ملتے اور ان کو شرک کے بجائے توحید اختیار

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page