دعوتی واقعات
Urdu book, p. 33
By Maulana Wahiduddin Khan
کرنے کی دعوت دیتے ۔ یہاں تک کہ سورہ الشعراء میں کھلے طور پر دعوت دینے کا حکم نازل ہوا۔ مکہ کے قریب صفا پہاڑی تھی۔ آپ ایک روز اس کے اوپر کھڑے ہوئے اور بلند آواز سے پکارا: یا صباحاہ۔ یہ آواز عربوں میں اس وقت پکاری جاتی تھی جب کسی دشمن کے فوری حملہ کا خطرہ ہو۔ چنانچہ اس پکار کو سن کر قریش کے لوگ صفا کے پاس جمع ہو گئے۔ جب لوگ وہاں جمع ہو گئے تو آپ نے کہا کہ اے لوگو، اگر میں تمہیں اس بات کی خبر دوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے لشکر کھڑا ہے اور وہ تمہارے اوپر حملہ کرنا چاہتا ہے تو کیا تم میری بات کو مانو گے۔ لوگوں نے کہا کہ ہاں، ہم نے تمہارے بارے میں اب تک سچ ہی کا تجربہ کیا ہے۔ آپ نے کہا کہ پھر سن لو کہ تم ایک سخت عذاب کے کنارے کھڑے ہوئے ہو اور میں تم کو اس سے ہوشیار کرنے والا ہوں۔ آپ نے کہا کہ جس طرح تم سوتے ہو اسی طرح تم مرو گے، اور جس طرح تم جاگتے ہو اسی طرح تم دوبارہ حساب و کتاب کے لیے اٹھائے جاؤ گے۔ اسکے بعد یا تو ہمیشہ کے لیے جنت ہے یا ہمیشہ کے لیے آگ کا عذاب۔ لوگ آپ کی یہ بات سن کر چپ رہے۔ مگر آپ کے چچا ابو لہب نے کہا: تمہارا برا ہو۔ کیا تم نے یہی کہنے کے لیے ہم کو بلایا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واقعات بتاتے ہیں کہ آپ کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ لوگ آگ کے عذاب سے بچیں اور اللہ کی رحمتوں کے مستحق قرار پائیں۔ قرآن میں ہے کہ آپ کو خطاب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: شاید تم اپنے آپ کو اس غم میں ہلاک کر ڈالو گے کہ لوگ ایمان قبول نہیں کرتے (26:3)۔ معاویہ بن حیدہ القشیری کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ میں نے کہا کہ اے خدا کے رسول میں نے اپنی انگلیوں کے پوروں کی تعداد سے بھی زیادہ بار یہ قسم کھائی تھی کہ میں آپ سے نہیں ملوں گا اور نہ آپ کے دین کو قبول کروں گا۔ اب میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader