دعوتی واقعات
Urdu book, p. 34
By Maulana Wahiduddin Khan
آپ کے پاس آیا ہوں اور میں آپ کو اللہ کی عظیم ہستی کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ ہمارے رب نے آپ کو کس چیز کے ساتھ ہمارے پاس بھیجا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ دین اسلام کے ساتھ۔ انہوں نے کہا کہ دین اسلام کیا ہے۔ آپ نے فرمایا یہ کہ تم کہو: میں نے اپنا چہرہ اللہ کے سپرد کر دیا اور میں اس کے لیے یکسو ہو گیا۔ اور تم نماز قائم کرو اور زکوۃ ادا کرو اور ہر مسلمان دوسرے مسلمان کے اوپر حرام ہے۔ مسلمان ایک دوسرے کے بھائی اور مددگار ہیں۔ شرک کے بعد جو شخص اسلام قبول کرے، اس کے عمل کو اللہ اس وقت تک قبول نہیں کرتا جب تک وہ مشرکین سے علیحدہ نہ ہو جائے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ مجھے کیا ضرورت تھی کہ میں تمہاری کمر پکڑ کر تم کو آگ سے بچاؤں۔ مگر بات یہ ہے کہ میرا رب مجھ کو بلانے والا ہے اور وہ مجھ سے پوچھنے والا ہے کہ کیا تم نے میرے بندوں تک پہنچا دیا۔ میں کہوں گا کہ ہاں، اے میرے رب، میں نے پہنچا دیا۔ سن لو کہ تم میں سے جو حاضر ہے وہ غائب کو پہنچادے۔ اس کے بعد معاویہ بن حیدہ نے اسلام قبول کر لیا۔ ابوبکر بن ابی قحافہ اپنے گھر سے نکلے تا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کریں۔ وہ زمانہ جاہلیت میں آپ کے دوستوں میں سے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اے ابوالقاسم، میں آپ کو برادری کی مجلسوں میں نہیں پاتاہو۔ لوگ آپ پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ آپ نے ہمارے معبودوں کو چھوڑ دیا اور ہمارے بزرگوں کو بیوقوف بنایا اور ہمارے باپ دادا کو گمراہ ٹھہرایا۔ آپ نے کہا کہ ہاں، میں اللہ کا پیغمبر ہوں۔ اور میں تم کو بھی ایک اللہ کی طرف اور اس کی اطاعت کی طرف بلاتا ہوں۔ خدا کی قسم، یہی حق ہے۔ تم کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراؤ اور صرف اسی کی عبادت کرو۔ اس کے بعد آپ نے قرآن کی چند آیتیں پڑھ کر سنائیں۔ حضرت ابوبکر نے اسی وقت آپ کی نبوت کا اقرار کر کے اسلام قبول کر لیا۔ حضرت ابوبکر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader