دعوتی واقعات
Urdu book, p. 35
By Maulana Wahiduddin Khan
کے اسلام قبول کرنے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اتنا خوش ہوئے کہ اس وقت مکہ کی دو پہاڑیوں کے درمیان کوئی بھی آپ سے زیادہ خوش نہ تھا۔ عمر و بن عبہ کہتے ہیں کہ میں جاہلیت کے زمانہ میں باپ دادا کے دین پر مطمئن نہ تھا۔ میں بتوں کو بے حقیقت سمجھتا تھا۔ کچھ دن بعد میں نے سنا کہ مکہ میں ایک شخص ظاہر ہوا ہے ۔ وہ نئی نئی باتیں بیان کرتا ہے۔ میں اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر مکہ پہنچا۔ وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چھپ کر تبلیغ کرتے ہیں اور قوم کے لوگ آپ کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ تلاش کرتے ہوئے آخر کار میں آپ کے پاس پہنچا۔ میں نے پوچھا کہ آپ کون ہیں۔ آپ نے کہا کہ میں اللہ کا رسول ہوں میں نے پوچھا کہ رسول کس کو کہتے ہیں ۔ آپ نے کہا کہ رسول وہ ہے جو اللہ کی طرف سے اس کا پیغام لائے۔ میں نے کہا کیا واقعتاً اللہ نے آپ کو بھیجا ہے۔ آپ نے کہا کہ ہاں۔ میں نے کہا کہ اللہ نے کیا چیز لے کر آپ کو بھیجا ہے۔ آپ نے کہا یہ کہ اللہ کو ایک مانا جائے اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کیا جائے ۔ بتوں کو توڑ دیا جائے اور رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے۔ اس کے بعد میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اس کام میں آپ کے ساتھ کون ہے۔ آپ نے کہا کہ ایک آزاد اور ایک غلام (یعنی ابو بکر اور بلال)۔ میں نے کہا کہ میں آپ کی اتباع کرتا ہوں۔ آپ نے کہا کہ اس وقت تم میری اتباع کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ اس وقت تم اپنے گھر واپس چلے جاؤ۔ جب تم سنو کہ میں غالب ہو گیا ہوں ، اس وقت آ کر تم میرے ساتھ ہو جانا ۔ عمر و بن عبہ کہتے ہیں کہ میں نے اسلام قبول کر لیا اور میں اپنے گھر واپس آ گیا۔ قرآن میں یہ حکم اترا کہ اپنے قریبی رشتہ داروں کو خبر دار کرو (26:214)۔ اس کے بعد

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader